سنن نسائي
ذكر الفطرة— ابواب: فطری (پیدائشی) سنتوں کا تذکرہ
بَابُ : الْوُضُوءِ بِمَاءِ الثَّلْجِ باب: برف کے پانی سے وضو کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 61
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قال : أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَايَ بِمَاءِ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ ، وَنَقِّ قَلْبِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے : «اللہم اغسل خطاياى بماء الثلج والبرد ونق قلبي من الخطايا كما نقيت الثوب الأبيض من الدنس» ” اے اللہ ! میرے گناہوں کو برف اور اولے کے پانی سے دھو دے ، اور میرے دل کو گناہوں سے اسی طرح پاک کر دے جس طرح تو نے سفید کپڑے کو میل سے پاک کیا ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´برف کے پانی سے وضو کرنے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: «اللہم اغسل خطاياى بماء الثلج والبرد ونق قلبي من الخطايا كما نقيت الثوب الأبيض من الدنس» " اے اللہ! میرے گناہوں کو برف اور اولے کے پانی سے دھو دے، اور میرے دل کو گناہوں سے اسی طرح پاک کر دے جس طرح تو نے سفید کپڑے کو میل سے پاک کیا ہے۔" [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 61]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: «اللہم اغسل خطاياى بماء الثلج والبرد ونق قلبي من الخطايا كما نقيت الثوب الأبيض من الدنس» " اے اللہ! میرے گناہوں کو برف اور اولے کے پانی سے دھو دے، اور میرے دل کو گناہوں سے اسی طرح پاک کر دے جس طرح تو نے سفید کپڑے کو میل سے پاک کیا ہے۔" [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 61]
61۔ اردو حاشیہ: ➊ برف کے پانی سے وضو کرنا جائز ہے جیسا کہ پچھلی حدیث میں اس کی وضاحت گزر چکی ہے۔
➋ انسان کو ہمیشہ استغفار کرتے رہنا چاہیے اور دل کو گناہوں کی میل کچیل سے صاف رکھنے کی دعا بھی کرنی چاہیے کیونکہ یہ تمام اعضاء کا سردار ہے اور دوسرے اعضاء کی درستی کا انحصار بھی اسی پر ہے جیسا کہ صحیحین میں ہے: ’’خبردار! بے شک جسم میں ایک ٹکڑا ہے جب وہ درست رہے تو سارا جسم درست رہتا ہے اگر وہ خراب ہو جائے تو سارا جسم خراب ہو جاتا ہے۔ خبردار! وہ (ٹکڑا) دل ہے۔" [صحیح البخاري، الایمان، حدیث: 52، و صحیح مسلم، المساقاۃ، حدیث: 1599]
➋ انسان کو ہمیشہ استغفار کرتے رہنا چاہیے اور دل کو گناہوں کی میل کچیل سے صاف رکھنے کی دعا بھی کرنی چاہیے کیونکہ یہ تمام اعضاء کا سردار ہے اور دوسرے اعضاء کی درستی کا انحصار بھی اسی پر ہے جیسا کہ صحیحین میں ہے: ’’خبردار! بے شک جسم میں ایک ٹکڑا ہے جب وہ درست رہے تو سارا جسم درست رہتا ہے اگر وہ خراب ہو جائے تو سارا جسم خراب ہو جاتا ہے۔ خبردار! وہ (ٹکڑا) دل ہے۔" [صحیح البخاري، الایمان، حدیث: 52، و صحیح مسلم، المساقاۃ، حدیث: 1599]
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 61 سے ماخوذ ہے۔