سنن نسائي
كتاب المواقيت— کتاب: اوقات نماز کے احکام و مسائل
بَابُ : الْوَقْتِ الَّذِي يَجْمَعُ فِيهِ الْمُسَافِرُ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ باب: مسافر کے مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جمع کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْعَطَّافُ ، عَنْ نَافِعٍ ، قال : أَقْبَلْنَا مَعَ ابْنِ عُمَرَ مِنْ مَكَّةَ ، فَلَمَّا كَانَ تِلْكَ اللَّيْلَةُ سَارَ بِنَا حَتَّى أَمْسَيْنَا فَظَنَنَّا أَنَّهُ نَسِيَ الصَّلَاةَ ، فَقُلْنَا لَهُ : الصَّلَاةَ ، فَسَكَتَ " وَسَارَ حَتَّى كَادَ الشَّفَقُ أَنْ يَغِيبَ ، ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى ، وَغَابَ الشَّفَقُ فَصَلَّى الْعِشَاءَ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا ، فَقَالَ : هَكَذَا كُنَّا نَصْنَعُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ " .
´نافع کہتے ہیں کہ` ہم لوگ ابن عمر رضی اللہ عنہم کے ساتھ مکہ مکرمہ سے آئے ، تو جب وہ رات آئی تو وہ ہمیں لے کر چلے ( اور برابر چلتے رہے ) یہاں تک کہ ہم نے شام کر لی ، اور ہم نے گمان کیا کہ وہ نماز بھول گئے ہیں ، چنانچہ ہم نے ان سے کہا : نماز پڑھ لیجئیے ، تو وہ خاموش رہے اور چلتے رہے یہاں تک کہ شفق ڈوبنے کے قریب ہو گئی ۱؎ پھر وہ اترے اور انہوں نے نماز پڑھی ، اور جب شفق غائب ہو گئی تو عشاء پڑھی ، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے ، اور کہنے لگے : جب چلنے کی جلدی ہوتی تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایسا ہی کرتے تھے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
نافع کہتے ہیں کہ ہم لوگ ابن عمر رضی اللہ عنہم کے ساتھ مکہ مکرمہ سے آئے، تو جب وہ رات آئی تو وہ ہمیں لے کر چلے (اور برابر چلتے رہے) یہاں تک کہ ہم نے شام کر لی، اور ہم نے گمان کیا کہ وہ نماز بھول گئے ہیں، چنانچہ ہم نے ان سے کہا: نماز پڑھ لیجئیے، تو وہ خاموش رہے اور چلتے رہے یہاں تک کہ شفق ڈوبنے کے قریب ہو گئی ۱؎ پھر وہ اترے اور انہوں نے نماز پڑھی، اور جب شفق غائب ہو گئی تو عشاء پڑھی، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے، اور کہنے لگے: جب چلنے کی جلدی ہوتی تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایسا ہی کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 597]
1۔
حضرت صفیہ بنت ابو عبید ؓ،حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کی زوجہ محترمہ ہیں۔
انھوں نے رسول اللہ ﷺ کا زمانہ پایا اور آپ کا کلام بھی سنا ہے۔
2۔
امام بخاری ؒبتانا چاہتے ہیں کہ سفر جہاد وغیرہ میں کسی مصلحت کے پیش نظر جلدی کرنا معیوب نہیں ایسا کرنا حالات پر موقوف ہے بہر حال فراغت کے بعد گھر جلدی واپس آنا آداب سفر میں سے ہے جیسا کہ درج ذیل حدیث میں اس کی صراحت ہے۔
ارشاد باری ہے ﴿إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَوْقُوتًا﴾ اہل ایمان پر نماز کا بروقت ادا کرنا فرض قرار دیا گیا ہے۔
مسائل و احکام حج کے سلسلے میں آداب سفر پر روشنی ڈالنا ضروری تھا۔
جب کہ حج میں از اول تا آخر ہی سفر سے سابقہ پڑتا ہے، اگرچہ سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے مگر سفر وسیلہ ظفر بھی ہے جیسا کہ حج ہے۔
اگر عنداللہ یہ قبول ہو جائے تو حاجی اس سفر سے اس حالت میں گھر واپس ہوتا ہے کہ گویا وہ آج ہی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے۔
یہ اس سفر ہی کی برکت ہے کہ مغفرت الٰہی کا عظیم خزانہ نصیب ہوا بہرحال آداب سفر میں سب سے اولین ادب فرض نماز کی محافظت ہے۔
پس ہرمسلمان کی یہ عین سعادت مندی ہے کہ وہ سفر وحضر میں ہر جگہ نماز کو اس کے آداب و شرائط کے ساتھ بجا لائے، ساتھ ہی اسلام نے اس سلسلہ میں بہت سی آسانیاں بھی دیں تاکہ سفر وحضر میں ہر جگہ یہ فر ض آسانی سے ادا کیا جاسکے، مثلاً ہر نماز کے لیے وضو کرنا فرض ہے مگر پانی نہ ہو تو مٹی سے تیمم کیا جاسکتا ہے، مسلمانوں کے لیے ساری زمین کو قابل عبادت قرار دیا گیا کہ جہاں بھی نماز کا وقت آجائے وہ اسی جگہ نماز ادا کرسکیں حتی کہ دریاؤں میں، پہاڑوں کی چوٹیں پر، لق و دق بیابانوں میں، زمین کے چپہ چپہ پر نماز ادا کی جاسکتی ہے اور یہ بھی آسانی دی گئی جس پر مجتہد مطلق حضرت امام بخاری ؒ نے باب میں اشارہ فرمایا ہے کہ مسافر خواہ وہ حج ہی کے لیے کیوں نہ سفر کر رہا ہو دو دو نمازوں کو بیک وقت ملا کر ادا کرسکتا ہے جیسا کہ حدیث باب میں مذکور ہوا کہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے اپنی اہلیہ محترمہ کی بیماری کی خبر سنی تو سواری کو تیز کر دیا تاکہ جلد سے جلد گھر پہنچ کر مریضہ کی تیمارداری کرسکیں، نیز نماز مغرب اور عشاءکو جمع کرکے ادا کر لیا، ساتھ ہی یہ بھی بتلایا کہ رسول کریم ﷺ بھی سفر میں نمازوں کو اس طرح ملا کر ادا فرما لیا کرتے تھے۔
ایک ایسے دین میں جو تاقیامت عالمگیری شان کے ساتھ باقی رہنے کا دعوایدار ہو ایسی جملہ آسانیوں کا ہونا ضروری تھا۔
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ محتاج تعارف نہیں ہیں۔
ان کی جلالت شان کے لیے یہی کافی ہے کہ فاروق اعظم عمر بن خطاب ؓ کے صاحب زادے ہیں، آپ کی اہلیہ محترمہ حضرت صفیہ بنت ابوعبید بنوثقیف سے تعلق رکھتی ہیں، انہوں نے آنحضرت ﷺ کو پایا اور آپ کے ارشاد طیبات سننے کا موقعہ ان کو بارہا ملا۔
آپ کی مرویات حضرت عائشہ ؓ اور حضرت حفصہ ؓ کے توسط سے ہیں، اور حضرت نافع جو حضرت عبداللہ بن عمر کے آزاد کردہ غلام ہیں، وہ ان سے روایت کرتے ہیں رضي اللہ عنهم۔
امام بخاری ؒ ضرورت کے پیش نظر تیز چلنے کا جواز ثابت کرنا چاہتے ہیں۔
حضرت ابن عمر ؓ کو جب اطلاع ملی کہ ان کی اہلیہ سخت بیمار ہیں تو انہوں نے اپنی سواری کو تیز کر دیا۔
ابوداود کی روایت میں ہے کہ انہوں نے تین دنوں کا سفر ایک دن اور ایک رات میں طے کیا۔
(سنن أبي داود، صلاةالسفر، حدیث: 1212)
ایسے حالات میں تیز چلنا جائز ہے۔
الغرض اگر ضرورت تیز چلنے کی ہو اور سواری میں اس کی طاقت ہو تو تیز رفتاری جائز ہے۔
اگر کوئی مجبوری نہ ہو اور جانور بھی اس کا متحمل نہ ہو تو تیز رفتاری ممنوع ہے۔
واللہ أعلم۔
امام بخاری ؒ کا مقصد دو نمازوں کو جمع کرنے کا جواز قطعا نہیں جیسا کہ بعض شراح بخاری نے اس مقام پر بیان کیا ہے، بلکہ وہ آداب سفر سے آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔
واللہ أعلم
آپ ﷺ نے سفر میں مغرب کی تین رکعت فرض نمازادا کی
امام بخاری ؒ کا مقصد یہ ہے کہ جن روایات میں دوران سفر دوگانہ پڑھنے کا ذکر ہے، نماز مغرب اس سے مستثنیٰ ہے۔
اسے قصر کے بجائے پورا پڑھا جائے۔
اس پر علماء کا اجماع ہے، چنانچہ حضرت ابن عمر ؓ سے مسافر کی نماز کے متعلق سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: ’’دوران سفر مسافر کی نماز دو دو رکعت ہیں، البتہ مغرب کی تین رکعت ادا کرنا ہوں گی۔
‘‘ (فتح الباري: 739/2)
رسول اللہ ﷺ کے عمل سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ مغرب کی نماز میں قصر نہیں ہے، جیسا کہ راوئ حدیث حضرت لیث کی پیش کردہ روایت میں صراحت ہے بلکہ پہلی حدیث کے بعض طرق میں بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ مغرب کی تین رکعت ادا کرتے تھے۔
(صحیح البخاري، التقصیر، حدیث: 1108)
حضرت عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ دوران سفر میں دوگانہ پڑھتے تھے، لیکن مغرب کا دوگانہ نہیں تھا۔
اسی طرح حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ دوران سفر دو دو رکعت پڑھیں، البتہ مغرب کی تین رکعت ہوتی تھیں۔
(فتح الباري: 740/2)
1۔
جمع تقدیم دو نمازوں ظہر اور عصر کو ظہر کے وقت میں پڑھ لے اورمغرب وعشاء کو مغرب کے وقت میں پڑھ لے۔
2۔
جمع تاخیر دو نمازوں یعنی ظہر اورعصر کو عصر کے وقت میں پڑھ لے اور مغرب وعشاء کو عشاء کے وقت میں پڑھ لے۔
3۔
ظہر وعصر کو اس طرح پڑھے کہ ظہر کو اس کے آخری وقت میں لے جائے کہ اس سے فراغت کے بعد عصر کا وقت ہو جائے تو اس طرح ظہر آخری وقت میں پڑھی گئی ہے۔
اور عصر وقت کے شروع میں پڑھ لی گئی۔
لیکن دونوں نمازوں کو اپنے اپنے وقت میں پڑھا گیا مغرب اور عشاء کے لیے بھی یہی طریقہ اختیار کیا گیا ہے کہ مغرب اپنے آخری وقت میں عشاء اپنے وقت کے شروع میں پڑھ لی جائے گی۔
احادیث سے سفر میں پہلے دونوں طریقے ثابت ہیں۔
اور ان دونوں صورتوں میں جمع حقیقی ہوتی ہے یعنی ایک نماز دوسری کے وقت میں پڑھی گئی ہے۔
اور ائمہ ثلاثہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اورامام احمد رحمۃ اللہ علیہ اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہ اس کے قائل ہیں۔
لیکن احناف کے نزدیک پہلا طریقہ صرف عرفات میں ظہر اور عصر کے ساتھ خاص ہے کہ عصر کی نماز ظہر کے وقت میں پڑھی جائے گی اور دوسرا طریقہ مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کے ساتھ خاص ہے کہ مغرب، عشاء کے وقت میں پڑھی جائے گی ان دومقامات کے سوا حقیقی جمع جائز نہیں ہے اور جمع حقیقی پر دلالت کرنے والی احادیث کی وہ بلاوجہ تاویل کرتے ہیں۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہیں ان کی ایک بیوی ۱؎ کے حالت نزع میں ہونے کی خبر دی گئی تو انہیں چلنے کی جلدی ہوئی چنانچہ انہوں نے مغرب کو مؤخر کیا یہاں تک کہ شفق غائب ہو گئی، وہ سواری سے اتر کر مغرب اور عشاء دونوں کو ایک ساتھ جمع کیا، پھر لوگوں کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب چلنے کی جلدی ہوتی تو آپ ایسا ہی کرتے تھے ۲؎۔ [سنن ترمذي/أبواب السفر/حدیث: 555]
1؎:
ان کا نام صفیہ بنت ابی عبید ہے۔
2؎:
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور بہت سے علماء کا یہی قول ہے کہ دو نمازوں کے درمیان جمع اسی صورت میں کیا جا سکتا ہے جب آدمی سفر میں چلتے رہنے کی حالت میں ہو، اگر مسافر کہیں مقیم ہو تو اسے ہر نماز اپنے وقت ہی پر پڑھنی چاہئے، اور احتیاط بھی اسی میں ہے، ویسے میدان تبوک میں حالتِ قیام میں آپ ﷺ سے جمع بین الصلاتین ثابت ہے، لیکن اسے بیانِ جواز پر محمول کیا جاتا ہے۔
عبداللہ بن دینار کہتے ہیں کہ سورج ڈوب گیا، اس وقت میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تھا، پھر ہم چلے، جب دیکھا کہ رات آ گئی ہے تو ہم نے کہا: نماز (ادا کر لیں) لیکن آپ چلتے رہے یہاں تک کہ شفق غائب ہو گئی اور تارے پوری طرح جگمگا نے لگے، پھر آپ اترے، اور دونوں نمازیں (مغرب اور عشاء) ایک ساتھ ادا کیں، پھر کہا کہ میں نے دیکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب چلتے رہنا ہوتا تو میری اس نماز کی طرح آپ بھی نماز ادا کرتے یعنی دونوں کو رات ہو جانے پر ایک ساتھ پڑھتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث عاصم بن محمد نے اپنے بھائی سے اور انہوں نے سالم سے روایت کی ہے، اور ابن ابی نجیح نے اسماعیل بن عبدالرحمٰن بن ذویب سے روایت کی ہے کہ ان دونوں نمازوں کو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے شفق غائب ہونے کے بعد جمع کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر /حدیث: 1217]
مذکورہ آثار دلیل ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کا عمل «جمع بين الصلواتين» ”غیوب شفق“ کے بعد تھا۔ بخلاف اس کے کہ جو پیچھے (سنن ابی داود حدیث [1212] میں) ”غیوب شفق“ سے قبل نمازوں کو جمع کرنا ان کی طرف منسوب کیا گیا ہے، جو صحیح نہیں ہے جیسا کہ وہاں اس کی وضاحت گزر چکی ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوم عرفہ (نویں ذی الحجہ) کو فجر پڑھ کر منیٰ سے چلے یہاں تک کہ عرفات آئے تو نمرہ میں اترے اور نمرہ عرفات میں امام کے اترنے کی جگہ ہے، جب ظہر کا وقت آنے کو ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (نمرہ سے) عین دوپہر میں چلے اور ظہر اور عصر کو جمع کیا، پھر لوگوں میں خطبہ دیا ۱؎ پھر چلے اور عرفات میں موقف میں وقوف کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1913]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں ایک بار کے علاوہ کبھی بھی مغرب اور عشاء کو ایک ساتھ ادا نہیں کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث «ایوب عن نافع عن ابن عمر» سے موقوفاً روایت کی جاتی ہے کہ نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو ایک رات کے سوا کبھی بھی ان دونوں نمازوں کو جمع کرتے نہیں دیکھا، یعنی اس رات جس میں انہیں صفیہ کی وفات کی خبر دی گئی، اور مکحول کی حدیث نافع سے مروی ہے کہ انہوں نے ابن عمر کو اس طرح ایک یا دو بار کرتے دیکھا۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر /حدیث: 1209]
یہ ر وایت مرفوعاً صحیح ثابت نہیں ہے، البتہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کا عمل ثابت ہے۔
نافع کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کے ساتھ ایک سفر میں نکلا، وہ اپنی زمین (کھیتی) کا ارادہ کر رہے تھے، اتنے میں ایک آنے والا آیا، اور اس نے کہا: آپ کی بیوی صفیہ بنت ابو عبید سخت بیمار ہیں تو آپ جا کر ان سے مل لیجئے، چنانچہ وہ بڑی تیز رفتاری سے چلے اور ان کے ساتھ ایک قریشی تھا وہ بھی ساتھ جا رہا تھا، آفتاب غروب ہوا تو انہوں نے نماز نہیں پڑھی، اور مجھے معلوم تھا کہ وہ نماز کی بڑی محافظت کرتے ہیں، تو جب انہوں نے تاخیر کی تو میں نے کہا: اللہ آپ پر رحم کرے! نماز پڑھ لیجئیے، تو وہ میری طرف متوجہ ہوئے اور چلتے رہے یہاں تک کہ جب شفق ڈوبنے لگی تو اترے، اور مغرب پڑھی، پھر عشاء کی تکبیر کہی، اس وقت شفق غائب ہو گئی تھی، انہوں نے ہمیں (عشاء کی) نماز پڑھائی، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چلنے کی جلدی ہوتی تو ایسا ہی کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 596]
نیز بعض روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کی اہلیہ مدینے میں تھیں اور آپ مکہ میں تو اس طرح مدینہ پہنچنے تک تین دن لگے تھے۔ واللہ أعلم۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: [ذخیرة العقبٰی شرح سنن النسائي للإتیوبي: 7؍274]
کثیر بن قاروندا کہتے ہیں کہ میں نے سالم بن عبداللہ سے سفر میں ان کے والد (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم) کی نماز کے بارے میں پوچھا، نیز ہم نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ سفر کے دوران کسی نماز کو جمع کرتے تھے؟ تو انہوں نے ذکر کیا کہ صفیہ بنت ابی عبید (جو ان کے عقد میں تھیں) نے انہیں لکھا، اور وہ اپنے ایک کھیت میں تھے کہ میرا دنیا کا آخری دن اور آخرت کا پہلا دن ہے (یعنی قریب المرگ ہوں آپ تشریف لائیے) تو ابن عمر رضی اللہ عنہم سوار ہوئے، اور ان تک پہنچنے کے لیے انہوں نے بڑی تیزی دکھائی یہاں تک کہ جب ظہر کا وقت ہوا تو مؤذن نے ان سے کہا: ابوعبدالرحمٰن! نماز پڑھ لیجئیے، لیکن انہوں نے اس کی بات کی طرف کوئی توجہ نہیں کی یہاں تک کہ جب دونوں نمازوں کا درمیانی وقت ہو گیا، تو سواری سے اترے اور بولے: تکبیر کہو، اور جب میں سلام پھیر لوں تو (پھر) تکبیر کہو، ۲؎ چنانچہ انہوں نے نماز پڑھی، پھر سوار ہوئے یہاں تک کہ جب سورج ڈوب گیا تو ان سے مؤذن نے کہا: نماز پڑھ لیجئیے، انہوں نے کہا: جیسے ظہر اور عصر میں کیا گیا ویسے ہی کرو، پھر چل پڑے یہاں تک کہ جب ستارے گھنے ہو گئے، تو سواری سے اترے، پھر مؤذن سے کہا: تکبیر کہو، اور جب میں سلام پھیر لوں تو پھر تکبیر کہو، تو انہوں نے نماز پڑھی، پھر پلٹے اور ہماری طرف متوجہ ہوئے، اور بولے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ” جب تم میں سے کسی کو ایسا معاملہ پیش آ جائے جس کے فوت ہو جانے کا اندیشہ ہو تو وہ اسی طرح (جمع کر کے) نماز پڑھے۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 589]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب چلنے کی جلدی ہوتی یا کوئی معاملہ درپیش ہوتا، تو آپ مغرب اور عشاء کو جمع کر کے پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 600]
«. . . وبه: قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا عجل به السير يجمع بين المغرب والعشاء . . .»
”. . . سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سفر میں جب جلدی ہوتی تو مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کر لیتے تھے . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 173]
تفقه:
➊ سفر میں دو نمازیں مثلا مغرب اور عشاء یا ظہر اور عصرجمع کر کے پڑھنا جائز ہے۔
➋ مزید فوائد کے لئے دیکھئے [موطأ امام مالك ح 488، 190، 109، 108، البخاري 4414، 139، ومسلم: 1280، 705، 2281]
➌ جب بارش میں حکمران مغرب اور عشاء کی نماز میں جمع کرتے تھے تو سيدنا عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہما بھی ان کے ساتھ جمع کر لیتے تھے۔ ديكهئے [الموطا 145/1 ح 329 وسنده صحيح]
➍ مدینہ طیبہ کے مشہور تابعی اور فقیہ امام سالم بن عبداللہ بن عمر بن الخطاب رحمہ اللہ نے سفر میں ظہر اور عصر کی نمازوں کے جمع کرنے کے بارے میں فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ الخ [الموطا 145/1 ح 330 وسنده صحيح]
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ سفر کی وجہ سے دو نمازوں کو جمع کرنا درست ہے۔ سیدنا انس بن ما لک رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب سورج کے زوال سے پہلے سفر شروع کرتے تو ظہر کو عصر کے وقت تک مؤخر کر کے دونوں نمازوں کو جمع کرتے تھے، اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر سے پہلے سورج ڈھل جا تا تو ظہر کی نماز پڑھ کر سوار ہو جاتے تھے۔ [صحيح البخاري: 1111ـ صـحيح مسلم: 704]
جمع کی معروف تین صورتیں ہیں: جمع تاخیر، جمع تقدیم اور جمع صوری، یہ تینوں صورتیں ہی جائز ہیں۔ جمع صوری سے مراد ظہر کی نماز کو ظہر کے آخری وقت میں اور عصر کی نماز کو عصر کے اول وقت میں پڑھنا۔ اس کے جواز کی دلیل [سنن ابي داود: 1212] میں ہے۔ نیز بارش کی وجہ سے بھی نماز میں جمع کرنا درست ہے۔ [صحيح مسلم: 705 1636]