حدیث نمبر: 5759
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ ابْنِ عَوْنٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ , عَنْ عَبِيدَةَ , قَالَ : " أَحْدَثَ النَّاسُ أَشْرِبَةً مَا أَدْرِي مَا هِيَ , وَمَا لِي شَرَابٌ مُنْذُ عِشْرِينَ سَنَةً إِلَّا الْمَاءُ وَاللَّبَنُ وَالْعَسَلُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبیدہ سلمانی کہتے ہیں کہ` لوگوں نے بہت سارے مشروبات ایجاد کر لیے ، مجھے نہیں معلوم وہ کیا کیا ہیں ، لیکن میرا تو بیس سال سے سوائے پانی ، دودھ اور شہد کے کوئی مشروب نہیں ہے ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأشربة / حدیث: 5759
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد مقطوع , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 19000) (صحیح الإسناد)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´مباح اور جائز مشروب کا بیان۔`
عبیدہ سلمانی کہتے ہیں کہ لوگوں نے بہت سارے مشروبات ایجاد کر لیے، مجھے نہیں معلوم وہ کیا کیا ہیں، لیکن میرا تو بیس سال سے سوائے پانی، دودھ اور شہد کے کوئی مشروب نہیں ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5759]
اردو حاشہ: کوئی بعید نہیں کہ دونوں بزرگوں نے اپنا اپنا معمول بتلایا ہو کہ ہم نے کبھی کوئی مشکوک مشروب پیا ہی نہیں اور ممکن ہے کہ امام صاحب کا مقصود روایات ذکر کرنے سے یہ ہو کہ بعض راویوں نے اسے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول بتلایا ہے اور بعض نے حضرت عبیدہ رحمہ اللہ کا۔ «والله أعلم»
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5759 سے ماخوذ ہے۔