سنن نسائي
كتاب الأشربة— کتاب: مشروبات (پینے والی چیزوں) کے احکام و مسائل
بَابُ : ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى إِبْرَاهِيمَ فِي النَّبِيذِ باب: نبیذ کے سلسلے میں ابراہیم نخعی کے شاگردوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 5755
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا أُسَامَةَ , يَقُولُ : " مَا رَأَيْتُ رَجُلًا أَطْلَبَ لِلْعِلْمِ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ , الشَّامَاتِ , وَمِصْرَ , وَالْيَمَنَ , وَالْحِجَازَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبیداللہ بن سعید بیان کرتے ہیں کہ` میں نے ابواسامہ کو کہتے ہوئے سنا : میں نے کسی شخص کو عبداللہ بن مبارک سے زیادہ علم کا طالب شام ، مصر ، یمن اور حجاز میں نہیں دیکھا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´نبیذ کے سلسلے میں ابراہیم نخعی کے شاگردوں کے اختلاف کا ذکر۔`
عبیداللہ بن سعید بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابواسامہ کو کہتے ہوئے سنا: میں نے کسی شخص کو عبداللہ بن مبارک سے زیادہ علم کا طالب شام، مصر، یمن اور حجاز میں نہیں دیکھا۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5755]
عبیداللہ بن سعید بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابواسامہ کو کہتے ہوئے سنا: میں نے کسی شخص کو عبداللہ بن مبارک سے زیادہ علم کا طالب شام، مصر، یمن اور حجاز میں نہیں دیکھا۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5755]
اردو حاشہ: (1) امام نسائی رحمہ اللہ کا مقصود حضرت عبداللہ بن مبارک رحمہ الله کی جلالت قدر اور علمی وجاہت کو بیان کرنا ہے کہ حضرت عبداللہ بن مبارک کی مندرجہ بالا بات کو غیر محقق نہ سمجھا جائے۔ وہ بہت بڑے محقق عالم تھے۔ اور ان کی یہ بات سو فیصد صحیح ہے کہ سوائے حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کے کسی صحابہ تابعی سے نشہ آور نبیذ کی رخصت سند کے ساتھ نہیں آتی، لہٰذا یہ ان کی بہت بڑی غلطی ہے «. . . . رحمة الله عليه . . . .»
(2) شام کے علاقے میں عربی میں اس کے لیے لفظ «شامات» استعمال کیا گیا ہے، یعنی شام کی جمع باقی علاقے مفرد ہیں کیونکہ شام بہت وسیع صوبہ تھا جس میں بہت سے علاقے پائے جاتے تھے۔
(2) شام کے علاقے میں عربی میں اس کے لیے لفظ «شامات» استعمال کیا گیا ہے، یعنی شام کی جمع باقی علاقے مفرد ہیں کیونکہ شام بہت وسیع صوبہ تھا جس میں بہت سے علاقے پائے جاتے تھے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5755 سے ماخوذ ہے۔