حدیث نمبر: 5754
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ أَبِي أُسَامَةَ , قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ الْمُبَارَكِ , يَقُولُ : " مَا وَجَدْتُ الرُّخْصَةَ فِي الْمُسْكِرِ عَنْ أَحَدٍ صَحِيحًا إِلَّا عَنْ إِبْرَاهِيمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابواسامہ کہتے ہیں کہ` میں نے عبداللہ بن مبارک کو کہتے ہوئے سنا : میں نے کسی سے نشہ لانے والی چیز کی رخصت صحیح روایت کے ساتھ نہیں سنی سوائے ابراہیم نخعی کے ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأشربة / حدیث: 5754
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد مقطوع , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18429) (صحیح الإسناد)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´نبیذ کے سلسلے میں ابراہیم نخعی کے شاگردوں کے اختلاف کا ذکر۔`
ابواسامہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن مبارک کو کہتے ہوئے سنا: میں نے کسی سے نشہ لانے والی چیز کی رخصت صحیح روایت کے ساتھ نہیں سنی سوائے ابراہیم نخعی کے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5754]
اردو حاشہ: گویا اس مسئلے میں حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ منفرد ہیں۔ تمام صحابہ و تابعین ہر نشہ آور مشروب کو مطلقاً ممنوع قرار دیتے ہیں جب کہ ابراہیم نخعی نے قلیل اجازت دی ہے۔ اسی سے ان کے قول کی وقعت اور حیثیت معلوم ہو جاتی ہے۔ صحابہ کے اجماع کی مخالفت کوئی معمولی بات نہیں، اگر کوئی جان بوجھ کر کرے تو قرآن میں اس کے لیے بڑے سخت الفاظ آئے ہیں۔ اللہ بچائے!
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5754 سے ماخوذ ہے۔