حدیث نمبر: 5751
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ مُغِيرَةَ , عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ : " لَا بَأْسَ بِنَبِيذِ الْبُخْتُجِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ` پختہ ( پکا ہوا ) شیرہ پینے میں کوئی حرج نہیں ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأشربة / حدیث: 5751
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، سفيان الثوري و مغيرة عنعنا. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 369
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18426) (صحیح الإسناد)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´نبیذ کے سلسلے میں ابراہیم نخعی کے شاگردوں کے اختلاف کا ذکر۔`
ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ پختہ (پکا ہوا) شیرہ پینے میں کوئی حرج نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5751]
اردو حاشہ: "پختہ" عربی میں لفظ «بختج» استعمال ہوا ہے جو کہ دراصل پختہ کا ہی عربی تلفظ ہے اس سے مراد وہ نبیذ ہے جسے آگ پر پکا کر تیار کیا جائے، مثلاً: طلاء جس کی تفسیر پیچھے گزر چکی ہے۔ لیکن اس کے لیے بھی ضروری ہے کہ اس میں نشہ نہ پایا جائے۔ [ديكهیے احاديث:  5718۔ 5730]
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5751 سے ماخوذ ہے۔