سنن نسائي
كتاب الأشربة— کتاب: مشروبات (پینے والی چیزوں) کے احکام و مسائل
بَابُ : ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى إِبْرَاهِيمَ فِي النَّبِيذِ باب: نبیذ کے سلسلے میں ابراہیم نخعی کے شاگردوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 5750
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ , قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ , قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ , قَالَ : حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَمْرٍو , عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ : " كَانُوا يَرَوْنَ أَنَّ مَنْ شَرِبَ شَرَابًا فَسَكِرَ مِنْهُ لَمْ يَصْلُحْ لَهُ أَنْ يَعُودَ فِيهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ` لوگوں کا خیال تھا کہ جو شخص کوئی مشروب پیے اور اس سے نشہ آ جائے تو اس کے لیے درست نہیں کہ وہ دوبارہ اسے پیے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´نبیذ کے سلسلے میں ابراہیم نخعی کے شاگردوں کے اختلاف کا ذکر۔`
ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ لوگوں کا خیال تھا کہ جو شخص کوئی مشروب پیے اور اس سے نشہ آ جائے تو اس کے لیے درست نہیں کہ وہ دوبارہ اسے پیے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5750]
ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ لوگوں کا خیال تھا کہ جو شخص کوئی مشروب پیے اور اس سے نشہ آ جائے تو اس کے لیے درست نہیں کہ وہ دوبارہ اسے پیے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5750]
اردو حاشہ: گویا حضرت ابراہیم نخعی کسی بھی نشہ آور مشروب کو پینا جائز نہیں سمجھےتھے نہ قلیل نہ کثیر۔ اور انھوں نے یہ مسلک سلف سے نقل فرمایا ہے۔ سلف سے مراد صحابہ اور کبار تابعین ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5750 سے ماخوذ ہے۔