سنن نسائي
كتاب الأشربة— کتاب: مشروبات (پینے والی چیزوں) کے احکام و مسائل
بَابُ : ذِكْرِ مَا يَجُوزُ شُرْبُهُ مِنَ الأَنْبِذَةِ وَمَا لاَ يَجُوزُ باب: کون سی نبیذ پینی جائز ہے اور کون سی ناجائز۔
حدیث نمبر: 5748
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ , أَنَّهُ قَالَ : " فِي النَّبِيذِ خَمْرُهُ دُرْدِيُّهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ` انہوں نے نبیذ کے بارے میں کہا : نبیذ کی شراب اس کی تل چھٹ ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´کون سی نبیذ پینی جائز ہے اور کون سی ناجائز۔`
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ انہوں نے نبیذ کے بارے میں کہا: نبیذ کی شراب اس کی تل چھٹ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5748]
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ انہوں نے نبیذ کے بارے میں کہا: نبیذ کی شراب اس کی تل چھٹ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5748]
اردو حاشہ: "شراب بن جاتی ہے" یعنی اس میں نشہ پیدا ہوجاتا ہے اور اس کا حکم شراب کا سا ہوجاتا ہے یعنی اسے پینا حرام ہوجاتا ہے کیونکہ شرعی طور پر نشہ آور مشروب اور شراب کا حکم ایک ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5748 سے ماخوذ ہے۔