حدیث نمبر: 5747
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ مَعْمَرٍ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ : " أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَجْعَلَ نَطْلَ النَّبِيذِ فِي النَّبِيذِ لِيَشْتَدَّ بِالنَّطْلِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ` وہ مکروہ سمجھتے تھے کہ نبیذ کے تل چھٹ کو نبیذ میں ملایا جائے تاکہ تل چھٹ کی وجہ سے اس میں تیزی آ جائے ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأشربة / حدیث: 5747
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد مقطوع , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، قتادة عنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 368
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18724) (صحیح الإسناد)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´کون سی نبیذ پینی جائز ہے اور کون سی ناجائز۔`
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ وہ مکروہ سمجھتے تھے کہ نبیذ کے تل چھٹ کو نبیذ میں ملایا جائے تاکہ تل چھٹ کی وجہ سے اس میں تیزی آ جائے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5747]
اردو حاشہ: اس بات کی تفصیل حدیث 5743 میں بیان ہوچکی ہے کہ بعض لوگ اوپر سے نبیذ کو نتھار لیتے تھے اور پیندے میں بچ رہنے والی تلچھٹ کو اسی طرح رہنے دیتے۔ اوپر سے نئی نبیذ ڈال دیتے۔ مقصد یہ ہوتا تھا کہ نبیذ میں تیزی پیدا ہوجائے۔ ظاہر ہے پرانی تلچھٹ میں نشے کا امکان ہوتا ہے اس لیے یہ طریقہ غلط ہے۔ شرعی مقاصد کے خلاف ہے۔ خصوصاً جب کہ یہ عمل بار بار دہرایا جائے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5747 سے ماخوذ ہے۔