سنن نسائي
كتاب الأشربة— کتاب: مشروبات (پینے والی چیزوں) کے احکام و مسائل
بَابُ : ذِكْرِ مَا يَجُوزُ شُرْبُهُ مِنَ الأَنْبِذَةِ وَمَا لاَ يَجُوزُ باب: کون سی نبیذ پینی جائز ہے اور کون سی ناجائز۔
حدیث نمبر: 5746
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ , عَنْ أَبِي عُثْمَانَ وَلَيْسَ بِالنَّهْدِيِّ , أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ أَرْسَلَتْ إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ تَسْأَلُهُ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ ؟ , فَحَدَّثَهَا , عَنْ النَّضْرِ ابْنِهِ : " أَنَّهُ كَانَ يَنْبِذُ فِي جَرٍّ يُنْبَذُ غَدْوَةً وَيَشْرَبُهُ عَشِيَّةً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوعثمان ( جو ابوعثمان نہدی نہیں ہیں ) سے روایت ہے کہ` ام الفضل نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے گھڑے کی نبیذ کے بارے میں مسئلہ پوچھوایا ۔ تو انہوں نے اپنے بیٹے نضر کے واسطہ سے ان کو بتایا کہ وہ گھڑے میں نبیذ تیار کرتے تھے ، اور صبح کو نبیذ تیار کرتے اور شام کو پیتے ۔