حدیث نمبر: 5745
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , قَالَ : سَمِعْتُ سُفْيَانَ سُئِلَ عَنِ النَّبِيذِ ؟ , قَالَ : " انْتَبِذْ عَشِيًّا وَاشْرَبْهُ غُدْوَةً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن المبارک کہتے ہیں کہ` میں نے سفیان سے سنا : ان سے نبیذ کے بارے میں سوال کیا گیا ؟ انہوں نے کہا : شام کو بھگو دو اور صبح کو پیو ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأشربة / حدیث: 5745
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد مقطوع , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18773) (صحیح الإسناد)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´کون سی نبیذ پینی جائز ہے اور کون سی ناجائز۔`
عبداللہ بن المبارک کہتے ہیں کہ میں نے سفیان سے سنا: ان سے نبیذ کے بارے میں سوال کیا گیا؟ انہوں نے کہا: شام کو بھگو دو اور صبح کو پیو۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5745]
اردو حاشہ: یعنی ایک دن رات سے زائد نہ رکھ۔ رات کی بنی ہوئی نبیذ دن کو کسی وقت پی جا سکتی ہے۔ اور اگر موسم ساتھ دے، یعنی نشے کا امکان نہ ہوتو اس سے زائد بھی رکھی جا سکتی ہے جیسا کہ پیچھے گزرا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5745 سے ماخوذ ہے۔