حدیث نمبر: 5734
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ , قَالَ أَخْبَرَنِي عُقَيْلٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ , قَالَ : " اشْرَبْ الْعَصِيرَ مَا لَمْ يُزْبِدْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ` شیرہ ( رس ) پیو ، جب تک کہ اس میں جھاگ نہ آ جائے ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأشربة / حدیث: 5734
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد مقطوع , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابن شهاب الزهري عنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 368
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف: 18744) (صحیح الٕاسناد)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´کون سا رس (شیرہ) پینا جائز ہے اور کون سا ناجائز؟`
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ شیرہ (رس) پیو، جب تک کہ اس میں جھاگ نہ آ جائے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5734]
اردو حاشہ: جھاگ پیدا ہونا تغیر پر دلالت کرتا ہے اور یہ نشے کی علامت ہے، لہٰذا انگوروں کا جوس اتنا پرانا ہوجائے کہ اس میں جوش یا جھاگ پیدا ہوجائے تو اس کا استعمال حرام ہوجاتا ہے، البتہ آگ پر گرم کرنے سے جوش یا جھاگ پیدا ہو تو کوئی حرج نہیں کہ وہ نشے کی بنا پر نہیں بلکہ آگ کی وجہ سے ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5734 سے ماخوذ ہے۔