حدیث نمبر: 5721
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ جَرِيرٍ , عَنْ مُغِيرَةَ , عَنْ الشَّعْبِيِّ , قَالَ : كَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " يَرْزُقُ النَّاسَ الطِّلَاءَ يَقَعُ فِيهِ الذُّبَابُ , وَلَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَخْرُجَ مِنْهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عامر شعبی کہتے ہیں کہ` علی رضی اللہ عنہ لوگوں کو اتنا گاڑھا طلاء پلاتے کہ اگر اس میں مکھی گر جائے تو وہ اس میں سے نکل نہ سکے ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأشربة / حدیث: 5721
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد موقوف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، مغيرة بن مقسم عنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 368
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 10151) (صحیح الإسناد)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´کون سا طلاء پینا جائز ہے اور کون سا ناجائز؟`
عامر شعبی کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ لوگوں کو اتنا گاڑھا طلاء پلاتے کہ اگر اس میں مکھی گر جائے تو وہ اس میں سے نکل نہ سکے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5721]
اردو حاشہ: (1) مقصود یہ ہے کہ وہ خوب گاڑھا ہوتا تھا۔ جتنا زیادہ گاڑھا ہوگا اتنا ہی نشے سے محفوظ ہوگا۔ گویا حرمت کی وجہ تو نشہ ہے۔ نشہ جس چیز میں ہو خواہ وہ طلاء ہی ہو حرام ہے۔
(2) مذکورہ بالا چار آثار کو محقق کتاب نے سنداً ضعیف قراردیا ہے لیکن یہ ایک دوسرے کے مؤید ہونے اور دیگر شواہد کی بناء پر قابل حجت ہیں۔ اس لیے شیخ البانی ؒ اور دیگر محققین نےانھیں صحیح قراردیا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5721 سے ماخوذ ہے۔