حدیث نمبر: 5720
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ هِشَامٍ , عَنْ ابْنِ سِيرِينَ , أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ الْخَطْمِيَّ , قَالَ : كَتَبَ إِلَيْنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : " أَمَّا بَعْدُ , فَاطْبُخُوا شَرَابَكُمْ حَتَّى يَذْهَبَ مِنْهُ نَصِيبُ الشَّيْطَانِ , فَإِنَّ لَهُ اثْنَيْنِ وَلَكُمْ وَاحِدٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن یزید خطمی کہتے ہیں کہ` عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہمیں لکھا : امابعد ، اپنے مشروبات کو اس قدر پکاؤ کہ اس میں سے شیطانی حصہ نکل جائے ۱؎ ، کیونکہ اس کے اس میں دو حصے ہیں اور تمہارا ایک ۔

وضاحت:
۱؎: شیطانی حصہ سے روایت نمبر ۵۷۲۹ میں مذکور واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأشربة / حدیث: 5720
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، هشام بن حسان مدلس وعنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 368
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 10588) (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´کون سا طلاء پینا جائز ہے اور کون سا ناجائز؟`
عبداللہ بن یزید خطمی کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہمیں لکھا: امابعد، اپنے مشروبات کو اس قدر پکاؤ کہ اس میں سے شیطانی حصہ نکل جائے ۱؎، کیونکہ اس کے اس میں دو حصے ہیں اور تمہارا ایک۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5720]
اردو حاشہ: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خط میں استعاراتی زبان استعمال فرمائی ہے۔ شیطان کے حصے سے مقصود نشہ ہے یعنی دو حصے خشک کرو کیونکہ اس سے نشے کا امکان نہیں رہے گا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5720 سے ماخوذ ہے۔