حدیث نمبر: 5718
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ , قَالَ : سَمِعْتُ مَنْصُورًا , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ نُبَاتَةَ , عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ , قَالَ : كَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى بَعْضِ عُمَّالِهِ : " أَنِ ارْزُقْ الْمُسْلِمِينَ مِنَ الطِّلَاءِ مَا ذَهَبَ ثُلُثَاهُ وَبَقِيَ ثُلُثُهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سوید بن غفلہ کہتے ہیں کہ` عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے کسی عامل ( گورنر ) کو لکھا : مسلمانوں کو وہ طلاء پینے دو جس کے دو حصے جل گئے ہوں اور ایک حصہ باقی ہو ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: انگور کا رس دو تہائی جل گیا ہو اور ایک تہائی رہ جائے تو اس کو طلا کہتے ہیں، یہ حلال ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأشربة / حدیث: 5718
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح موقوف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، إبراهيم النخعي مدلس وعنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 367
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 10461) (حسن، صحیح الإسناد)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´کون سا طلاء پینا جائز ہے اور کون سا ناجائز؟`
سوید بن غفلہ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے کسی عامل (گورنر) کو لکھا: مسلمانوں کو وہ طلاء پینے دو جس کے دو حصے جل گئے ہوں اور ایک حصہ باقی ہو ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5718]
اردو حاشہ: جب انگوروں کا جوس اتنا خشک ہوجائے تواس میں عموماً نشے کا امکان نہیں رہتا، صرف مٹھاس باقی رہ جاتی ہے لیکن اگر بالفرض اس میں بھی نشہ پیدا ہوجائے تو وہ بھی حرام ہوگا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5718 سے ماخوذ ہے۔