سنن نسائي
كتاب الأشربة— کتاب: مشروبات (پینے والی چیزوں) کے احکام و مسائل
بَابُ : ذِكْرِ الأَخْبَارِ الَّتِي اعْتَلَّ بِهَا مَنْ أَبَاحَ شَرَابَ الْمُسْكِرِ باب: نشہ لانے والی شراب کو مباح اور جائز قرار دینے کی احادیث کا ذکر۔
حدیث نمبر: 5698
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ , عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ , قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق الشَّيْبَانِيُّ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَر , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ . قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ نَافِعٍ لَيْسَ بِالْمَشْهُورِ , وَلَا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ , وَالْمَشْهُورُ عَنْ ابْنِ عُمَرَ خِلَافُ حِكَايَتِهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی` ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کرتے ہیں ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں : عبدالملک بن نافع مشہور نہیں ہیں ، ان کی روایات لائق دلیل نہیں ۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ان کی اس حکایت کے خلاف مشہور ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´نشہ لانے والی شراب کو مباح اور جائز قرار دینے کی احادیث کا ذکر۔`
اس سند سے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کرتے ہیں۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: عبدالملک بن نافع مشہور نہیں ہیں، ان کی روایات لائق دلیل نہیں۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ان کی اس حکایت کے خلاف مشہور ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5698]
اس سند سے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کرتے ہیں۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: عبدالملک بن نافع مشہور نہیں ہیں، ان کی روایات لائق دلیل نہیں۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ان کی اس حکایت کے خلاف مشہور ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5698]
اردو حاشہ: یہ چوتھی روایت ہے جس سےاحناف نے خمر کے علاوہ دیگر نشہ آور مشروب کو تھوڑی مقدار میں پینے کے جواز پر استدلال کیا ہے حالانکہ یہ روایت بھی سابقہ تین روایات کی طرح غیر معروف اور ضعیف راوی سے منقول ہے جب کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے بھی منقول مشہور اور صحیح روایات اس روایت کے خلاف ہیں۔ ظاہر ہے مشہور اور صحیح روایات پر ہی عمل ہوتا ہے نہ کہ ضعیف اور غیر معروف روایت پر۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5698 سے ماخوذ ہے۔