حدیث نمبر: 5697
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ , قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , قَالَ : أَنْبَأَنَا الْعَوَّامُ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ نَافِعٍ , قَالَ : قَالَ ابْنُ عُمَرَ : رَأَيْتُ رَجُلًا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ فِيهِ نَبِيذٌ وَهُوَ عِنْدَ الرُّكْنِ وَدَفَعَ إِلَيْهِ الْقَدَحَ , فَرَفَعَهُ إِلَى فِيهِ فَوَجَدَهُ شَدِيدًا , فَرَدَّهُ عَلَى صَاحِبِهِ , فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَحَرَامٌ هُوَ ؟ فَقَالَ : " عَلَيَّ بِالرَّجُلِ " , فَأُتِيَ بِهِ فَأَخَذَ مِنْهُ الْقَدَحَ , ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَصَبَّهُ فِيهِ , فَرَفَعَهُ إِلَى فِيهِ فَقَطَّبَ , ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ أَيْضًا فَصَبَّهُ فِيهِ , ثُمَّ قَالَ : " إِذَا اغْتَلَمَتْ عَلَيْكُمْ هَذِهِ الْأَوْعِيَةُ , فَاكْسِرُوا مُتُونَهَا بِالْمَاءِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبدالملک بن نافع کہتے ہیں کہ` ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا : میں نے ایک شخص کو دیکھا ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک پیالہ لایا اس میں نبیذ تھی ۔ آپ رکن ( حجر اسود ) کے پاس کھڑے تھے اور آپ کو وہ پیالہ دے دیا ۔ آپ نے اسے اپنے منہ تک اٹھایا تو دیکھا کہ وہ تیز ہے ، آپ نے اسے لوٹا دیا ، آپ سے لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول ! کیا وہ حرام ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” بلاؤ اس شخص کو “ ، اس کو بلایا گیا ، آپ نے اس سے پیالا لے لیا پھر پانی منگایا اور اس میں ڈال دیا ، پھر منہ سے لگایا تو پھر منہ بنایا اور پھر پانی منگا کر اس میں ملایا ۔ پھر فرمایا : ” جب ان برتنوں میں کوئی مشروب تمہارے لیے تیز ہو جائے تو اس کی تیزی کو پانی سے مٹاؤ “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأشربة / حدیث: 5697
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، عبدالملك بن نافع: مجهول (تقريب: 4224) وضعفه ابن معين وغيره وضعفه راجح. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 367
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 7303) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی عبدالملک مجہول ہیں)»