حدیث نمبر: 5693
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ , قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ , قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ : " نَبِيذُ الْبُسْرِ بَحْتٌ لَا يَحِلُّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` گدر ( ادھ کچی ) کھجور کی نبیذ اگرچہ وہ خالص ہو پھر بھی حرام ہے ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأشربة / حدیث: 5693
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد موقوف , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 5442) (صحیح الإسناد)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´نشہ لانے والی شراب کو مباح اور جائز قرار دینے کی احادیث کا ذکر۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ گدر (ادھ کچی) کھجور کی نبیذ اگرچہ وہ خالص ہو پھر بھی حرام ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5693]
اردو حاشہ: اس سے مراد نشہ آور نبیذ ہے۔ چونکہ گدر کھجور کی نبیذ جلدی نشہ آور ہوجاتی ہے اس لیے قید لگانے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ اس فتوے سے بھی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا مسلک معلوم ہوگیا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5693 سے ماخوذ ہے۔