سنن نسائي
كتاب الأشربة— کتاب: مشروبات (پینے والی چیزوں) کے احکام و مسائل
بَابُ : ذِكْرِ الأَخْبَارِ الَّتِي اعْتَلَّ بِهَا مَنْ أَبَاحَ شَرَابَ الْمُسْكِرِ باب: نشہ لانے والی شراب کو مباح اور جائز قرار دینے کی احادیث کا ذکر۔
حدیث نمبر: 5686
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ شُبْرُمَةَ يَذْكُرُهُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " حُرِّمَتِ الْخَمْرُ قَلِيلُهَا وَكَثِيرُهَا ، وَالسُّكْرُ مِنْ كُلِّ شَرَابٍ " . ابْنُ شُبْرُمَةَ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` شراب کم ہو یا زیادہ حرام ہے ، اور دوسرے مشروبات اس وقت حرام ہیں جب نشہ آ جائے ۔ ابن شبرمہ نے اسے عبداللہ بن شداد سے نہیں سنا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´نشہ لانے والی شراب کو مباح اور جائز قرار دینے کی احادیث کا ذکر۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ شراب کم ہو یا زیادہ حرام ہے، اور دوسرے مشروبات اس وقت حرام ہیں جب نشہ آ جائے۔ ابن شبرمہ نے اسے عبداللہ بن شداد سے نہیں سنا۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5686]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ شراب کم ہو یا زیادہ حرام ہے، اور دوسرے مشروبات اس وقت حرام ہیں جب نشہ آ جائے۔ ابن شبرمہ نے اسے عبداللہ بن شداد سے نہیں سنا۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5686]
اردو حاشہ: (1) اس روایت کا مذکورہ ترجمہ ان لوگوں کی رعایت سے کیا گیا ہے جو اس سے مندرجہ بالا استدلال کرتے ہیں ورنہ پھر اس کا یہ ترجمہ بھی ہوسکتا ہے شراب قلیل اور کثیر حرام ہے نیز ہر نشہ آور مشروب (بھی حرام ہے) بلکہ یہ ترجمہ ترکیبی بندش کے لحاظ سے زیادہ صحیح ہے خصوصاً جب کہ یہ ترجمہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی دیگر روایات کے مطابق ہے۔ کیونکہ وہ نشہ آور مشروب تو ایک طرف رہا نشے کے امکان والے برتنوں تک کے قائل نہیں جیسا کہ پیچھے ایک روایات گزرچکی ہیں اور آئندہ بھی مذکور ہیں۔
(2) "نہیں سنی" یعنی یہ روایت منقطع ہے اور منقطع روایت ضعیف ہوتی ہے۔
(2) "نہیں سنی" یعنی یہ روایت منقطع ہے اور منقطع روایت ضعیف ہوتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5686 سے ماخوذ ہے۔