حدیث نمبر: 5684
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : حَدَّثَتْنَا كَرِيمَةُ بِنْتُ هَمَّامٍ ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ , تَقُولُ : " نُهِيتُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ ، نُهِيتُمْ عَنِ الْحَنْتَمِ ، نُهِيتُمْ عَنِ الْمُزَفَّتِ ، ثُمَّ أَقْبَلَتْ عَلَى النِّسَاءِ ، فَقَالَتْ : " إِيَّاكُنَّ وَالْجَرَّ الْأَخْضَرَ ، وَإِنْ أَسْكَرَكُنَّ مَاءُ حُبِّكُنَّ فَلَا تَشْرَبْنَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´کریمہ بنت ہمام بیان کرتی ہیں کہ` انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے ہوئے سنا : تم لوگوں کو کدو کی تونبی سے منع کیا گیا ہے ، لاکھی برتن سے منع کیا گیا ہے اور روغنی برتن سے منع کیا گیا ہے ، پھر وہ عورتوں کی طرف متوجہ ہوئیں اور بولیں : سبز روغنی گھڑے سے بچو اور اگر تمہیں تمہارے مٹکوں کے پانی سے نشہ آ جائے تو اسے نہ پیو ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأشربة / حدیث: 5684
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، كريمة بنت همام: لم أجد من وثقها. ولبعض الحديث شواهد. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 366
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف: 17960) (حسن الٕاسناد)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´نشہ لانے والی شراب کو مباح اور جائز قرار دینے کی احادیث کا ذکر۔`
کریمہ بنت ہمام بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے ہوئے سنا: تم لوگوں کو کدو کی تونبی سے منع کیا گیا ہے، لاکھی برتن سے منع کیا گیا ہے اور روغنی برتن سے منع کیا گیا ہے، پھر وہ عورتوں کی طرف متوجہ ہوئیں اور بولیں: سبز روغنی گھڑے سے بچو اور اگر تمہیں تمہارے مٹکوں کے پانی سے نشہ آ جائے تو اسے نہ پیو۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5684]
اردو حاشہ: جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ ایسے برتنوں سےجن میں نشے کا صرف امکان ہے منع فرما رہی ہیں تو کیا وہ یہ کہہ سکتی ہیں کہ نشہ آورمشروب پیو لیکن نشہ نہ آئے ہرگز نہیں۔ برتنوں کے مسئلے کی تحقیق عنقریب گزر چکی ہے نیز راجح قول کے مطابق یہ روایت شواہد کی بنا پر صحیح ہے۔ (ذخيرة العقبىٰ شرح سنن النسائي305/40)
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5684 سے ماخوذ ہے۔