حدیث نمبر: 5670
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَاهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُثْمَانَ ، يَقُولُ : " اجْتَنِبُوا الْخَمْرَ فَإِنَّهَا أُمُّ الْخَبَائِثِ ، فَإِنَّهُ كَانَ رَجُلٌ مِمَّنْ خَلَا قَبْلَكُمْ يَتَعَبَّدُ وَيَعْتَزِلُ النَّاسَ , فَذَكَرَ مِثْلَهُ ، قَالَ : فَاجْتَنِبُوا الْخَمْرَ فَإِنَّهُ وَاللَّهِ لَا يَجْتَمِعُ وَالْإِيمَانُ أَبَدًا إِلَّا يُوشِكَ أَحَدُهُمَا أَنْ يُخْرِجَ صَاحِبَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبدالرحمٰن بن حارث کہتے ہیں کہ` میں نے عثمان رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا : شراب سے بچو ، کیونکہ یہ برائیوں کی جڑ ہے ، تم سے پہلے زمانے کے لوگوں میں ایک شخص تھا جو بہت عبادت گزار تھا اور لوگوں سے الگ رہتا تھا ، پھر اسی طرح ذکر کیا ۔ وہ کہتے ہیں : لہٰذا تم شراب سے بچو ، اس لیے کہ اللہ کی قسم وہ ( یعنی شراب نوشی ) اور ایمان کبھی اکٹھا نہیں ہو سکتے ۔ البتہ ان میں سے ایک دوسرے کو نکال دے گا ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی اگر بغیر توبہ کے مر گیا، اور اگر توبہ کر لے گا تو ایمان شراب کے اثر کو نکال دے گا ان شاء اللہ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأشربة / حدیث: 5670
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ (صحیح)»