حدیث نمبر: 5666
أَخْبَرَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ ابْنِ فُضَيْلٍ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ بَكْرٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى , عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ كَانَ ، يَقُولُ : " مَا أُبَالِي شَرِبْتُ الْخَمْرَ ، أَوْ عَبَدْتُ هَذِهِ السَّارِيَةَ مِنْ دُونِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ` میں پروا نہیں کرتا ( یعنی اس میں کوئی فرق نہیں سمجھتا ) کہ شراب پیوں یا اللہ جل جلالہ کے علاوہ اس ستون کو پوجوں ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأشربة / حدیث: 5666
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الٔلشراف: 9132) (صحیح الإسناد)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´شراب پینے کے سلسلے میں سخت قسم کی احادیث کا ذکر۔`
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ میں پروا نہیں کرتا (یعنی اس میں کوئی فرق نہیں سمجھتا) کہ شراب پیوں یا اللہ جل جلالہ کے علاوہ اس ستون کو پوجوں۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5666]
اردو حاشہ: (1) پروانہیں یعنی میرے نزدیک یہ دونوں کام ایک برابر ہیں کیونکہ شراب پی کر عقل ماؤف ہو جاتی ہے۔ انسان اس حالت میں بھی گناہ کر سکتا ہے حتیٰ کہ شرک بھی، اس لیے تو شراب کو ام الخبائث کہا گیا ہے۔ جس طرح شرک انسان کی تمام نیکیوں کو ختم کر دیتا ہے، اسی طرح شرابی شخص بھی آہستہ آہستہ تمام نیکیاں چھوڑ بیٹھتا ہے اور تمام گناہوں کا ارتکاب کرنے لگتا ہے۔ یہ مطلب نہیں کہ شراب پینا شرک وکفر ہے بلکہ صرف تشبیہ مقصود ہے، جیسے ماں اپنے بیٹے کو کہتی ہے کہ یہ میرا چاند ہے۔
(2) اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر یا اللہ تعالیٰ کے سوا، یعنی اس کی پوجا کے ساتھ ساتھ ستون کی بھی پوجا کروں اور یہ دونوں صورتیں شرک اور کفر ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5666 سے ماخوذ ہے۔