سنن نسائي
كتاب الأشربة— کتاب: مشروبات (پینے والی چیزوں) کے احکام و مسائل
بَابُ : الإِذْنِ فِي شَىْءٍ مِنْهَا باب: ہر برتن کے استعمال کی اجازت کا بیان۔
حدیث نمبر: 5659
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ , وَأَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ , عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا نَهَى عَنِ الظُّرُوفِ شَكَتْ الْأَنْصَارُ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , لَيْسَ لَنَا وِعَاءٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَلَا إِذًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کچھ برتنوں سے روکا تو انصار کو شکایت ہوئی ، چنانچہ انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! ہمارے پاس کوئی اور برتن نہیں ہے تو آپ نے فرمایا : ” تب تو نہیں “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی پھر تو ان کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´ہر برتن کے استعمال کی اجازت کا بیان۔`
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کچھ برتنوں سے روکا تو انصار کو شکایت ہوئی، چنانچہ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارے پاس کوئی اور برتن نہیں ہے تو آپ نے فرمایا: ” تب تو نہیں “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5659]
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کچھ برتنوں سے روکا تو انصار کو شکایت ہوئی، چنانچہ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارے پاس کوئی اور برتن نہیں ہے تو آپ نے فرمایا: ” تب تو نہیں “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5659]
اردو حاشہ: گویا یہ پابندی کچھ عرصے تک رہی۔ لوگوں کی تکلیف کو محسوس فرماتے ہوئے بعد میں آپ نے پابندی اٹھائی۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5659 سے ماخوذ ہے۔