مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 5658
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ مَرْوَزِيٌّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ عُبَيْدٍ الْكِنْدِيُّ خُرَاسَانِيٌّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا هُوَ يَسِيرُ إِذْ حَلَّ بِقَوْمٍ , فَسَمِعَ لَهُمْ لَغَطًا ، فَقَالَ : " مَا هَذَا الصَّوْتُ ؟ " , قَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ , لَهُمْ شَرَابٌ يَشْرَبُونَهُ ، فَبَعَثَ إِلَى الْقَوْمِ فَدَعَاهُمْ ، فَقَالَ : " فِي أَيِّ شَيْءٍ تَنْتَبِذُونَ ؟ " , قَالُوا : نَنْتَبِذُ فِي النَّقِيرِ ، وَالدُّبَّاءِ ، وَلَيْسَ لَنَا ظُرُوفٌ ، فَقَالَ : " لَا تَشْرَبُوا إِلَّا فِيمَا أَوْكَيْتُمْ عَلَيْهِ " ، قَالَ : فَلَبِثَ بِذَلِكَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَلْبَثَ ثُمَّ رَجَعَ عَلَيْهِمْ فَإِذَا هُمْ قَدْ أَصَابَهُمْ وَبَاءٌ وَاصْفَرُّوا ، قَالَ : " مَا لِي أَرَاكُمْ قَدْ هَلَكْتُمْ ؟ " , قَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَرْضُنَا وَبِيئَةٌ ، وَحَرَّمْتَ عَلَيْنَا ، إِلَّا مَا أَوْكَيْنَا عَلَيْهِ ، قَالَ : " اشْرَبُوا وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں جا رہے تھے ، اسی دوران اچانک کچھ لوگوں کے پاس ٹھہرے ، تو ان میں کچھ گڑبڑ آواز سنی ، فرمایا : ” یہ کیسی آواز ہے ؟ “ لوگوں نے کہا : اللہ کے نبی ! ان کا ایک قسم کا مشروب ہے جسے وہ پی رہے ہیں ، آپ نے لوگوں کو بلا بھیجا اور فرمایا : ” تم لوگ کس چیز میں نبیذ تیار کرتے ہو ؟ “ وہ بولے : ہم لوگ لکڑی کے برتن اور کدو کی تونبی میں تیار کرتے ہیں ۔ ہمارے پاس ( ان کے علاوہ ) دوسرے برتن نہیں ہوتے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم صرف ڈاٹ لگے ہوئے برتنوں میں پیو “ ، پھر آپ وہاں کچھ دنوں تک ٹھہرے رہے جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور تھا ، پھر جب ان کے پاس لوٹ کر گئے تو دیکھا کہ وہ استسقاء کے مرض میں مبتلا ہو کر پیلے پڑ گئے ہیں ، آپ نے فرمایا : ” کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں تباہ و برباد دیکھ رہا ہوں “ ، وہ بولے : اللہ کے نبی ! ہمارا علاقہ وبائی ہے آپ نے ہم پر ( تمام برتن ) حرام کر دیے سوائے ان برتنوں کے جن پر ہم نے ڈاٹ لگائی ہو ، آپ نے فرمایا : پیو ( جیسے چاہو ) البتہ ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأشربة / حدیث: 5658
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´ہر برتن کے استعمال کی اجازت کا بیان۔`
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں جا رہے تھے، اسی دوران اچانک کچھ لوگوں کے پاس ٹھہرے، تو ان میں کچھ گڑبڑ آواز سنی، فرمایا: یہ کیسی آواز ہے؟ لوگوں نے کہا: اللہ کے نبی! ان کا ایک قسم کا مشروب ہے جسے وہ پی رہے ہیں، آپ نے لوگوں کو بلا بھیجا اور فرمایا: تم لوگ کس چیز میں نبیذ تیار کرتے ہو؟ وہ بولے: ہم لوگ لکڑی کے برتن اور کدو کی تونبی میں تیار کرتے ہیں۔ ہمارے پاس (ان کے علاوہ) دوسرے برتن نہیں ہوت۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5658]
اردو حاشہ: (1) اس حدیث میں سابقہ نہی وممانعت کے نسخ کا بیان ہے۔ پہلے آپ نے انھیں یہ حکم ارشاد فرمایا تھا کہ ایسے برتنوں میں نبیذ بنایا کرو جن کےمنہ تسمے یا دھاگے وغیرہ سے بند کر کے باندھے جا سکتے ہوں۔ پھر بعد ازاں آپ نے یہ پابندی نرم کردی اورصرف یہ پابندی برقرار رکھی کہ ہرنشہ آور مشروب حرام ہے۔
(2) شراب اور دیگر نشہ آور اشیاء کےنقضانات میں سے چند یہ ہیں: غل غپاڑہ مچانا، ہذیان بکنا، اونچی اونچی بولنا، حرمتوں کو پامال کرنا، بے ہودگی اور آوارگی کا مظاہرہ کرنا، دیوانگی اور عشق وفریفتگی کا مظہر بن جانا، خواہشات کی پیروی کرنا او ربے حیا بن جانا۔
(3) نشہ آور مشروبات ومطعومات اس لیے بھی ناجائز ہیں کہ ان کے استعمال سے انسانی عقل وشعور ماؤف ہو جاتے ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو صاحب شعور بنایا ہے۔ انسانی شرف وکمال میں عقل وخرد کا بہت زیادہ عمل وخلل ہے بلکہ دیگر جانداروں سے، اسے امتیاز عقل وشعور ہی کی وجہ سے ہے۔ اور نشہ عقل کا دشمن ہے، لہٰذا یہ حرام ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5658 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔