سنن نسائي
كتاب الأشربة— کتاب: مشروبات (پینے والی چیزوں) کے احکام و مسائل
بَابُ : تَفْسِيرِ الأَوْعِيَةِ باب: ممنوع برتنوں کی شرح و تفسیر۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ زَاذَانَ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قُلْتُ : حَدِّثْنِي بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَوْعِيَةِ وَفَسِّرْهُ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْحَنْتَمِ ، وَهُوَ الَّذِي تُسَمُّونَهُ أَنْتُمُ الْجَرَّةَ ، وَنَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ ، وَهُوَ الَّذِي تُسَمُّونَهُ أَنْتُمُ الْقَرْعَ ، وَنَهَى عَنِ النَّقِيرِ ، وَهِيَ النَّخْلَةُ يَنْقُرُونَهَا ، وَنَهَى عَنِ الْمُزَفَّتِ ، وَهُوَ الْمُقَيَّرُ " .
´زاذان کہتے ہیں کہ` میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے درخواست کی کہ مجھ سے کوئی ایسی بات بیان کیجئیے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے برتنوں کے سلسلے میں سنی ہو اور اس کی شرح و تفسیر بھی بیان کیجئے تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لاکھی برتن سے روکا اور یہ وہی ہے جسے تم «جرہ» ( گھڑا ) کہتے ہو ۔ «دباء» سے روکا ، جسے تم «قرع» ( کدو کی تُو نبی ) کہتے ہو ، «نقیر» سے روکا اور یہ کھجور کے درخت کی جڑ ہے جسے تم کھودتے ہو ( اور برتن بنا لیتے ہو ) اور «مزفت» جو «مقیر» ۱؎ ہے اس سے بھی روکا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
زاذان کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے درخواست کی کہ مجھ سے کوئی ایسی بات بیان کیجئیے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے برتنوں کے سلسلے میں سنی ہو اور اس کی شرح و تفسیر بھی بیان کیجئے تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لاکھی برتن سے روکا اور یہ وہی ہے جسے تم «جرہ» (گھڑا) کہتے ہو۔ «دباء» سے روکا، جسے تم «قرع» (کدو کی تُو نبی) کہتے ہو، «نقیر» سے روکا اور یہ کھجور کے درخت کی جڑ ہے جسے تم کھودتے ہو (اور برتن بنا لیتے [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5648]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں وفد عبدالقیس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم کس برتن میں پیئیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” دباء، مزفت اور نقیر میں مت پیو، اور تم نبیذ مشکیزوں میں بنایا کرو “ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول اگر مشکیزے میں تیزی آ جائے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اس میں پانی ڈال دیا کرو “ وفد کے لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! (اگر پھر بھی تیزی نہ جائے تو) آپ نے ان سے تیسری یا چوتھی مرتبہ فرمایا: ” اسے بہا دو ۱؎ “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھ پر شراب، جوا، اور ڈھولک ک۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3696]
1۔
مشکیزےمیں ڈال ہوئے رس میں یہ شدت کسی خامرے کی آمیزش کے بغیر فطری طور پر پیدا ہوتی تھی۔
2۔
تیسری یا چوتھی بار پوچھنے سے پتہ چلا کہ وہ غیرمعمولی شدت ہے جو زیادہ وقت گزرنے کے ساتھ پیدا ہوتی ہے۔
3۔
جہاں شراب ایک مادی مشروب حرام ہے۔
کیونکہ عقل پر پردہ ڈال دیتی ہے، وہاں موسیقی ایک صوتی چیز ہے۔
جو بھلے چنگےآدمی کی عقل کو مائوف کر دیتی ہے۔
آلات موسیقی میں سے ایک ڈھول بھی ہے۔
جو حرام ہے۔
البتہ دف حلال ہے۔
جس پر ایک طرف سے چمڑا منڈا ہوتا ہے۔
اور دوسری طرف سے خالی ہوتا ہے۔
اسے ہاتھ سے بجایا جاتا ہے۔
❀ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ: «قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن الله حر م عليكم الخمر و الميسر و الكوبة . . كل مسكر حرام» رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بےشک اللہ نے تمہارے اوپر شراب، جوا اور کُوبہ حرام کیا ہے اور فرمایا: ہر نشہ دینے والی چیز حرام ہے۔ [مسند احمد 2691، 350 ح 3274 وإسناده صحيح ح 3274 وسنن أبى داود: 3696]
اس کے ایک راوی علی بن بذیمہ فرماتے ہیں کہ «الكوبة» سے مراد «الطبل» یعنی ڈھول ہے۔ [سنن ابي داؤد: 2/ 164 و إسناده صحيح]
❀ سیدنا عبداللہ بن عمرو العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «إن الله عزوجل حر م الخمر و الميسر و الكو بة والغبيراء و كل مسكر حرام» بے شک اللہ عزوجل نے خمر (شراب) جوا، ڈھولکی بجانا اور مکی کی شراب حرام قرار دیا ہے اور ہر نشہ دینے والی چیز حرام ہے۔ [مسند احمد 2/ 171 ح 6591م، و سنده حسن]
اس روایت کا راوی عمر و بن الولید بن عبدہ جمہور کے نزدیک ثقہ و موثق ہے لہٰذا اس کی حدیث حسن کے درجے سے نہیں گرتی۔
❀ محمود بن خالد الدمشقی نے صحیح سند کے ساتھ امام نافع سے نقل کیا ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک دفعہ بانسری کی آواز سنی تو اپنے کانوں میں انگلیاں دے دیں اور فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا تھا۔ [سنن ابي داؤد: 2/ 326 ح 4924 و إسناده حسن و المعجم الكبير للطبراني: 1/ 13 و تحريم النرود الشطرنج و الملاهي للآجري ح 65، مسند احمد 2/ 38ح 4965، السنن الكبري للبيهقي: 1/ 222]
اس حدیث کے بارے میں علامہ ابن الوزیر الیمانی نے ”توضیح الافکار“ [ج 1 ص 150] میں لکھا ہے کہ: «صحيح على الأصح» سب سے صحیح یہ ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے۔
(1)
تنسح فسحا: اچھی طرح اوپر سے چھیلا جاتا ہے (2)
تنقر نقرا: اندر سے اچھی طرح کھودا جاتا ہے۔
طاؤس سے روایت ہے کہ ایک آدمی ابن عمر رضی الله عنہما کے پاس آیا اور پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹکے کی نبیذ سے منع فرمایا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں ۱؎، طاؤس کہتے ہیں: اللہ کی قسم میں نے ان سے یہ بات سنی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الأشربة/حدیث: 1867]
وضاحت:
1؎:
لیکن شرط یہ ہے کہ وہ نشہ آور ہوجائے، نبیذ اگر نشہ آور نہیں ہے تو حلال ہے، نبیذ وہ شراب ہے جو کھجور، کشمش، انگور، شہد، گیہوں اور جووغیرہ سے تیار کی جاتی ہے۔
زاذان کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی الله عنہما سے ان برتنوں کے متعلق پوچھا جن سے آپ نے منع فرمایا ہے اور کہا: اس کو اپنی زبان میں بیان کیجئے اور ہماری زبان میں اس کی تشریح کیجئے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «حنتمة» سے منع فرمایا ہے اور وہ مٹکا ہے، آپ نے «دباء» سے منع فرمایا ہے اور وہ کدو کی تونبی ہے۔ آپ نے «نقير» سے منع فرمایا اور وہ کھجور کی جڑ ہے جس کو اندر سے گہرا کر کے یا خراد کر برتن بنا لیتے ہیں، آپ نے «مزفت» سے منع فرمایا اور وہ روغن قیر ملا ہوا (لاکھی) برتن ہے، اور آپ نے حکم دیا کہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الأشربة/حدیث: 1868]
وضاحت:
1؎:
حدیث کے الفاظ حنتم، دباء، نقیر اور مزفت یہ مختلف قسم کے برتنوں کے نام ہیں، ان میں زمانہ جاہلیت میں شراب بنائی اوررکھی جاتی تھی، شراب کی حرمت کے وقت ان برتنوں کے استعمال سے منع کردیا گیا، پھر بعد میں بریدہ اسلمی کی اگلی روایت ’’كُنتُ نُهِيتُكُم عَنِ الأَوعِيَةِ فَاشرِبُوا فِي كُِّل وِعَاء‘‘ (یعنی میں نے تمہیں مختلف برتنوں کے استعمال سے منع کردیا تھا، لیکن اب انہیں اپنے پینے کے لیے استعمال کرسکتے ہو) سے ان برتنوں کی ممانعت منسوخ ہوگئی۔
سعید بن جبیر کہتے ہیں میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «جر» (مٹی کا گھڑا) میں بنائی ہوئی نبیذ کو حرام قرار دیا ہے تو میں ان کی یہ بات سن کر گھبرایا ہوا نکلا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آ کر کہا: کیا آپ نے سنا نہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما کیا کہتے ہیں؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: کیا بات ہے؟ میں نے کہا: وہ یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «جر» کے نبیذ کو حرام قرار دیا ہے، انہوں نے کہا: وہ سچ کہتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «جر» کے نبیذ کو حرام قرار دیا ہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3691]
1۔
رسول اللہ ﷺ کا کسی چیز کو حلال یا حرام کرنا ان کی اپنی مرضی سے ہرگز نہ تھا، بلکہ یہ سب وحی کی بنا پرہوتا تھا۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
(وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ ﴿٣﴾ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ) (النجم۔
3۔
4)
2۔
مٹی کے سے بنے برتنوں میں وہ برتن بھی شامل ہیں۔
جن کا اوپر ذکرہوا ہے۔
جس برتن میں کسی طرح کا روغن ملا جاتا تھا۔
خواہ سبز رنگ کا ہوتا یا سفید وغیرہ سب منع تھے۔
(صحیح البخاري، الأشربة،حدیث: 5596)
3۔
خیال رہے کہ نبیذ وہ مشروب ہوتا ہے۔
کہ کھجور یا کشمش وغیرہ کو پانی میں بھگو دیتے ہیں، چند گھنٹوں کے بعد پانی میٹھا ہوجاتا ہے۔
اور استعمال کیا جاتا ہے۔
یہ مشروب نبیذ کہلاتا ہے۔
اسے صرف اتنا وقت رکھنے کی اجازت ہے کہ وہ اصل حالت میں رہے سردیوں میں تین دن تک اور گرمیوں میں صرف ایک دن تک۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کی تونبی، سبز رنگ کی ٹھلیا، روغنی برتن اور لکڑی کے برتن سے، ادھ کچی اور سوکھی کھجور کو ملانے سے اور انگور اور سوکھی کھجور کو ملانے سے منع فرمایا اور اہل ہجر (احساد) کو لکھا: انگور اور سوکھی کھجور کو ایک ساتھ نہ ملاؤ۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5559]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سبز رنگ کے برتن سے منع فرمایا ہے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: «حنتم» کیا ہوتا ہے؟ کہا: مٹی کا برتن۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5620]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کی تونبی، لاکھ کے برتن اور لکڑی کے برتن سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5635]
ابوجمرہ نصر بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: میری دادی میرے لیے ایک گھڑے میں میٹھی نبیذ تیار کرتی ہیں جسے میں پیتا ہوں۔ اگر میں اسے زیادہ پی لوں اور لوگوں میں بیٹھوں تو اندیشہ لگا رہتا ہے کہ کہیں رسوائی نہ ہو جائے، وہ بولے: عبدالقیس کا ایک وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا: ” خوش آمدید ان لوگوں کو جو نہ رسوا ہوئے، نہ شرمندہ “، وہ بولے: اللہ کے رسول! ہمارے اور آپ کے درمیا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5695]
(2) ”رسوا نہ ہو جاؤں“ یعنی دماغ صحیح کام نہیں کرتا۔ گویا کچھ نہ کچھ نشہ ہوتا ہے۔
(3) ”نہ رسوا ہوئے نہ نادم“ اگر لڑائی میں شکست کے بعد مسلمان ہوتے تو شکست کی رسوائی اٹھانا پڑتی اور نبی اکرم ﷺ کے ساتھ لڑائی کی ندامت بھی ہوتی۔ اب اپنے آپ مسلمان ہوئے تو دونوں چیزوں سے محفوظ رہے۔
(4) اس با ت میں اختلاف ہے کہ آپ نے ان کو کن چیزوں کا حکم دیا اور کن چیزوں سے منع فرمایا کیونکہ ظاہراً تو ایک چیز کے حکم کا ذکر ہے یعنی ایمان باللہ۔ اور ایک چیز سے منع کا ذکر ہے یعنی مندرجہ بالا برتنوں کی نبیذ سے۔ گویا باقی چیزوں کا ذکر نہیں بلکہ کسی اور روایت میں بھی ان کا ذکر نہیں۔ بعض حضرات کے نزدیک وہ چیزیں وہی ہیں جو ایمان باللہ کی تفسیر ہیں مگر وہ تو چار ہیں جب کہ اوپر تین چیزوں کے حکم کا ذکر ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ شہادتین کو شمار نہیں کیا گیا کیونکہ وہ شہادتین تو ادا کر چکے تھے۔ اسی طرح چار ممنوع چیزوں سے مراد چار برتن ہی ہیں۔ واللہ أعلم۔
(5) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے جواب سے مقصود یہ ہے کہ ایسی نبیذ جس میں نشے کا شک یا امکان ہو، نہیں پینی چاہیے، چہ جائیکہ ایسی نبیذ پی جائے جو حقیقتاً نشہ آور ہو۔
«. . . 248- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم خطب الناس فى بعض مغازيه، فقال عبد الله بن عمر: فأقبلت نحوه، فانصرف قبل أن أبلغه، فسألت ماذا قال: فقالوا: نهى أن ينبذ فى الدباء والمزفت. . . .»
”. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی غزوے میں خطبہ دیا تو عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چلا پھر میرے پہنچنے سے پہلے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبے سے فارغ ہو گئے تو میں نے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کے برتن اور روغنی مرتبان میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 397]
تفقه:
➊ برائی کی طرف لے جانے والے ذرائع کا بھی سدِباب کرنا چاہئے۔
➋ تمام صحابہ عدول ہیں لہٰذا صحابی کا مجہول ہونا مضر نہیں ہے بلکہ نامعلوم صحابی تک اگر سن صحیح ہو تو حدیث حجت ہوتی ہے۔
➌ مختلف مقامات و اوقات میں لوگوں کی اصلاح کے لئے درس و تدریس جاری رکھنا مسنون ہے۔
➍ بعض علماء اس ممانعت کو منسوخ سمجھتے ہیں۔ ➎ ذوق و انہماک سے وعظ و خطبہ سننا چاہئے اور علم و عمل کے جذبے سے سرشار رہنا چاہئے۔