سنن نسائي
كتاب الأشربة— کتاب: مشروبات (پینے والی چیزوں) کے احکام و مسائل
بَابُ : ذِكْرِ النَّهْىِ عَنْ نَبِيذِ الدُّبَّاءِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْمُقَيَّرِ، وَالْحَنْتَمِ باب: کدو کی تونبی لکڑی کے برتن، روغنی برتن اور لاکھی کی نبیذ کے ممنوع ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5644
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ طَوْدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ الْقَيْسِيِّ بَصْرِيٌّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ هُنَيْدَةَ بِنْتِ شَرِيكِ بْنِ زَبَّانَ ، قَالَتْ : لَقِيتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بِالْخُرَيْبَةِ , فَسَأَلْتَهَا عَنِ الْعَكَرِ ؟ فَنَهَتْنِي عَنْهُ ، وَقَالَتْ : " انْبِذِي عَشِيَّةً ، وَاشْرَبِيهِ غُدْوَةً ، وَأَوْكِي عَلَيْهِ ، وَنَهَتْنِي عَنِ الدُّبَّاءِ ، وَالنَّقِيرِ ، وَالْمُزَفَّتِ ، وَالْحَنْتَمِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ہنیدہ بنت شریک بن ابان کہتی ہیں کہ` میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے ( مقام ) خریبہ میں ملاقات کی اور ان سے شراب کی تلچھٹ کے بارے میں سوال کیا ۔ تو انہوں نے مجھے اس سے منع فرمایا ، یعنی انہوں نے کہا : شام کو بھگو کر صبح پی لو اور برتن کے منہ کو بند کر کے رکھو ۔ اور انہوں نے مجھے کدو کی تونبی ، لکڑی کے برتن ، روغنی برتن اور لاکھی برتن سے منع فرمایا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´کدو کی تونبی لکڑی کے برتن، روغنی برتن اور لاکھی کی نبیذ کے ممنوع ہونے کا بیان۔`
ہنیدہ بنت شریک بن ابان کہتی ہیں کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے (مقام) خریبہ میں ملاقات کی اور ان سے شراب کی تلچھٹ کے بارے میں سوال کیا۔ تو انہوں نے مجھے اس سے منع فرمایا، یعنی انہوں نے کہا: شام کو بھگو کر صبح پی لو اور برتن کے منہ کو بند کر کے رکھو۔ اور انہوں نے مجھے کدو کی تونبی، لکڑی کے برتن، روغنی برتن اور لاکھی برتن سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5644]
ہنیدہ بنت شریک بن ابان کہتی ہیں کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے (مقام) خریبہ میں ملاقات کی اور ان سے شراب کی تلچھٹ کے بارے میں سوال کیا۔ تو انہوں نے مجھے اس سے منع فرمایا، یعنی انہوں نے کہا: شام کو بھگو کر صبح پی لو اور برتن کے منہ کو بند کر کے رکھو۔ اور انہوں نے مجھے کدو کی تونبی، لکڑی کے برتن، روغنی برتن اور لاکھی برتن سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5644]
اردو حاشہ: خریبہ بصرہ شہر کا ایک محل ہے جسے بصرہ صغری (چھو ٹا بصری) بھی کہا جاتا تھا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5644 سے ماخوذ ہے۔