حدیث نمبر: 5607
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ابْنِ فُضَيْلٍ ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ بِهَا أَشْرِبَةً ، يُقَالُ لَهَا : الْبِتْعُ وَالْمِزْرُ ، قَالَ : " وَمَا الْبِتْعُ وَالْمِزْرِ ؟ " ، قُلْتُ : شَرَابٌ يَكُونُ مِنَ الْعَسَلِ وَالْمِزْرُ يَكُونُ مِنَ الشَّعِيرِ ، قَالَ : " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن روانہ کیا تو میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! وہاں مشروبات بہت ہوتے ہیں جنہیں «بتع» اور «مزر» کہا جاتا ہے ، آپ نے فرمایا : «بتع» کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا : وہ شہد کا مشروب ہوتا ہے اور «مزر» جَو کا مشروب ہوتا ہے ، آپ نے فرمایا : ” ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأشربة / حدیث: 5607
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج حدیث «صحیح البخاری/المغازي 60 (4343)، (تحفة الأشراف: 9095) (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´بتع اور مزر کی شرح و تفسیر۔`
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن روانہ کیا تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہاں مشروبات بہت ہوتے ہیں جنہیں «بتع» اور «مزر» کہا جاتا ہے، آپ نے فرمایا: «بتع» کیا ہے؟ میں نے عرض کیا: وہ شہد کا مشروب ہوتا ہے اور «مزر» جَو کا مشروب ہوتا ہے، آپ نے فرمایا: ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5607]
اردو حاشہ: مزر جوار کے علاوہ جو حتیٰ کہ گندم سے بھی تیار کیا جاتا تھا، لہٰذا یہ تناقص نہیں۔ یہ ایک قسم کی نبیذ ہوتی تھی۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5607 سے ماخوذ ہے۔