سنن نسائي
كتاب المواقيت— کتاب: اوقات نماز کے احکام و مسائل
بَابُ : السَّاعَاتِ الَّتِي نُهِيَ عَنِ الصَّلاَةِ فِيهَا باب: نماز کے ممنوع اوقات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الصُّنَابِحِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الشَّمْسُ تَطْلُعُ وَمَعَهَا قَرْنُ الشَّيْطَانِ ، فَإِذَا ارْتَفَعَتْ فَارَقَهَا ، فَإِذَا اسْتَوَتْ قَارَنَهَا ، فَإِذَا زَالَتْ فَارَقَهَا ، فَإِذَا دَنَتْ لِلْغُرُوبِ قَارَنَهَا ، فَإِذَا غَرَبَتْ فَارَقَهَا ، وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ فِي تِلْكَ السَّاعَاتِ " .
´عبداللہ صنابحی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سورج نکلتا ہے تو اس کے ساتھ شیطان کی سینگ ہوتی ہے ۱؎ ، پھر جب سورج بلند ہو جاتا ہے تو وہ اس سے الگ ہو جاتا ہے ، پھر جب دوپہر کو سورج سیدھائی پر آ جاتا ہے تو پھر اس سے مل جاتا ہے ، اور جب ڈھل جاتا ہے تو الگ ہو جاتا ہے ، پھر جب سورج ڈوبنے کے قریب ہوتا ہے ، تو اس سے مل جاتا ہے ، پھر جب سورج ڈوب جاتا ہے تو وہ اس سے جدا ہو جاتا ہے “ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ( تینوں ) اوقات میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ صنابحی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” سورج نکلتا ہے تو اس کے ساتھ شیطان کی سینگ ہوتی ہے ۱؎، پھر جب سورج بلند ہو جاتا ہے تو وہ اس سے الگ ہو جاتا ہے، پھر جب دوپہر کو سورج سیدھائی پر آ جاتا ہے تو پھر اس سے مل جاتا ہے، اور جب ڈھل جاتا ہے تو الگ ہو جاتا ہے، پھر جب سورج ڈوبنے کے قریب ہوتا ہے، تو اس سے مل جاتا ہے، پھر جب سورج ڈوب جاتا ہے تو وہ اس سے جدا ہو جاتا ہے “، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (تینوں) اوقات میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 560]
(2)شیطان کا طلوع اور غروب کے وقت سورج کے ساتھ مل جانا اس لیے ہے کہ لوگ ان اوقات میں سورج کی پوجا کرتے ہیں، حدیث میں ہے: «وحینئذ یسجد لھا الکفار» ”اس وقت کفار سورج کو سجدہ کرتے ہیں۔“ [صحیح مسلم، صلاة المسافرین، حدیث: 532، وإرواء الغلیل: 2؍237]
شیطان چاہتا ہے کہ میری بھی پوجا ہو، لہٰذا وہ سورج اور اس کی پوجا کرنے والوں کے درمیان سورج کے سامنے آکھڑا ہوتا ہے۔ اور عین استوا کے وقت نماز سے ممانعت کی علت بھی حدیث میں منقول ہے، فرمایا: «فإنه حینئذ تسجرجھنم» ”کیونکہ اس وقت جہنم بھڑکائی جاتی ہے۔“ [صحیح مسلم، صلاة المسافرین، حدیث: 832]
یہ تو حقیقی معنی ہیں اور اس میں کوئی چیز خلاف عقل یا بعید نہیں، البتہ بعض لوگ اسے استعارے پر محمول کرتے ہیں۔
➌ان تین اوقات میں نفل نماز سے روکا گیا ہے نہ کہ رہ جانے والی فرض نماز سے، وہ تو پڑھی جا سکتی ہے جب بھی یاد یا جاگ آجائے۔ لیکن عصر کے بعد ممانعت کے وقت کی ایک دوسری حدیث میں تخصیص وارد ہے اور وہ، وقت ہے جب سورج زردی مائل ہو جائے، یعنی اس وقت کوئی نماز بلاوجہ پڑھنے سے ممانعت ہے، ہاں! جب تک عصر کے بعد سورج چمکتا اور روشن رہے، زردی مائل نہ ہوا ہو، مطلقاً نوافل پڑھے جاسکتے ہیں، اس کی دلیل آئندہ آنے والی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی صحیح حدیث (574) ہے۔ دیکھیے: [حدیث: 574، وإرواء الغلیل: 2؍237، وشرح سنن النسائي للإتیوبي: 7؍363]
➍شیخ البانی رحمہ اللہ کے نزدیک مذکورہ حدیث ان الفاظ: «فاذا استوت قارنھا فاذا زالت فارقھا» کے علاوہ صحیح ہے۔ دیکھیے: [إرواء الغلیل: 2؍238]
ابوعبداللہ صنابحی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بیشک سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان نکلتا ہے، یا فرمایا کہ سورج کے ساتھ وہ اس کی دونوں سینگیں نکلتی ہیں، جب سورج بلند ہو جاتا ہے تو وہ اس سے الگ ہو جاتا ہے، پھر جب سورج آسمان کے بیچ میں آتا ہے تو وہ اس سے مل جاتا ہے، پھر جب سورج ڈھل جاتا ہے تو شیطان اس سے الگ ہو جاتا ہے، پھر جب ڈوبنے کے قریب ہوتا ہے تو وہ اس سے مل جاتا ہے، پھر جب ڈوب جاتا ہے تو وہ اس سے جدا ہو جاتا ہے، لہٰذا تم ان تین اوقات میں نماز نہ پڑھو “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1253]
فوئاد و مسائل: مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے صحیح، الموسوعۃ الحدیثیہ کے محققین نے اسے سنداً مرسل او دیگر شواہد کی بنا پر صحیح قرار دیا ہے۔
جبکہ شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ مذکورہ روایت کی بابت لکھتے ہیں کہ یہ روایت (فَإِذَا كَانَتْ فِي وَسَطِ السَّمَاءِ قَارَنَهَا فَإِذَا دَلَكَتْ فَارَقَهَا)
’’جب سورج آسمان کے درمیان میں پہنچتا ہے۔
تو شیطان اس سے مل جاتا ہے۔
جب ڈھل جاتا ہے تو وہ اس سے الگ ہوجاتا ہے۔‘‘
اس جملے کے علاوہ صحیح ہے۔
تاہم انہی کی رائے أقرب إِلی الصواب معلوم ہوتی ہے۔
کیونکہ مذکورہ روایت کوصحیح کہنے والوں نے اس روایت کے جو شواہد ذکر کیے ہیں۔
ان میں اس جملے کا ذکر نہیں ہے۔
بلکہ ان میں مطلق طور پر تین اوقات میں نماز پڑھنا مکروہ قرار دیا گیا ہے۔
تاہم بعض روایات جو کہ مذکورہ روایت سے زیادہ صحیح ہیں۔
ان میں ممانعت کی وجہ بیان کی گئی ہے۔
کہ دوپہر کے وقت جہنم دکھایا جاتا ہے۔
لہذا مذکورہ روایت میں مذکور نماز کی ممانعت کی وجہ درست نہیں بلکہ صحیح اور درست یہی ہے۔
کہ دوپہر کے وقت جہنم دہکایا جاتا ہے۔
وللہ أعل۔
تفصیل کےلئے دیکھئے: (ضعیف سنن ابن ماجة للألبانی، رقم: 2588 وسنن ابن ماجة للدکتور بشار عواد، حدیث: 1253 والموسوعة حدیثية مسند الإمام أحمد: 212/31)