سنن نسائي
كتاب الأشربة— کتاب: مشروبات (پینے والی چیزوں) کے احکام و مسائل
بَابُ : تَحْرِيمِ كُلِّ شَرَابٍ أَسْكَرَ باب: نشہ لانے والے ہر مشروب کی حرمت کا بیان۔
حدیث نمبر: 5592
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى أَنْ يُنْبَذَ فِي الدُّبَّاءِ ، وَالْمُزَفَّتِ ، وَالنَّقِيرِ ، وَالْحَنْتَمِ ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کی تونبی ، روغنی برتن ، لکڑی کے برتن اور ہرے رنگ کے برتن میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا ، اور فرمایا : ” ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´نشہ لانے والے ہر مشروب کی حرمت کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کی تونبی، روغنی برتن، لکڑی کے برتن اور ہرے رنگ کے برتن میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا، اور فرمایا: ” ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5592]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کی تونبی، روغنی برتن، لکڑی کے برتن اور ہرے رنگ کے برتن میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا، اور فرمایا: ” ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5592]
اردو حاشہ: دیکھیے حدیث:5550۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5592 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3697 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´شراب میں استعمال ہونے والے برتنوں کا بیان۔`
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تونبی، سبز رنگ کے برتن، لکڑی کے برتن اور جو کی شراب سے منع فرمایا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3697]
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تونبی، سبز رنگ کے برتن، لکڑی کے برتن اور جو کی شراب سے منع فرمایا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3697]
فوائد ومسائل:
فائدہ: اطباء کی اصطلاح میں آش جو (جو کا جوش دیا ہوا پانی) استعمال کرنا جائز ہے۔
لیکن اگر اس میں کسی طرح نشے کے اثرات کا اندیشہ ہو تو حلال نہیں ہے۔
فائدہ: اطباء کی اصطلاح میں آش جو (جو کا جوش دیا ہوا پانی) استعمال کرنا جائز ہے۔
لیکن اگر اس میں کسی طرح نشے کے اثرات کا اندیشہ ہو تو حلال نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3697 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5172 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´سونے کی انگوٹھی کا بیان۔`
صعصعہ بن صوحان کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ ہمیں منع فرمایئے اس چیز سے جس سے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا، وہ بولے: مجھے منع فرمایا: کدو سے بنے اور سبز رنگ کے برتن سے، سونے کے چھلے، ریشمی لباس اور حریر اور سرخ زین کے استعمال سے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5172]
صعصعہ بن صوحان کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ ہمیں منع فرمایئے اس چیز سے جس سے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا، وہ بولے: مجھے منع فرمایا: کدو سے بنے اور سبز رنگ کے برتن سے، سونے کے چھلے، ریشمی لباس اور حریر اور سرخ زین کے استعمال سے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5172]
اردو حاشہ: کدو کا برتن اور تارکول لگا ہوا مٹکا بے مسام ہوتے ہیں، لہٰذا ان میں نبیذ بنایا جائے تو اس میں جلدی نشہ پیدا ہوجاتا تھا، اسی لیے لوگوں نے جاہلیت میں یہ برتن شراب بنانے کے لیے مخصوص کررکھے تھے، لہٰذا آپ نے ابتدا میں ان برتنوں کے نبیذ سے بھی روک دیا تھا، بعد میں اجازت دے دی بشرطیکہ نشہ پیدا نہ ہو۔ (فصیل اپنے مقام پر گزر چکی ہے)۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5172 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5175 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´سونے کی انگوٹھی کا بیان۔`
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے میرے محبوب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں سے منع فرمایا، میں یہ نہیں کہتا کہ آپ نے لوگوں کو منع فرمایا، بلکہ مجھے منع فرمایا: سونے کی انگوٹھی پہننے سے، ریشمی لباس پہننے سے، زرد رنگ سے جو چمکیلا اور لال ہو، اور رکوع و سجدے کی حالت میں قرآن پڑھنے سے ۱؎۔ ضحاک بن عثمان نے داود بن قیس کی متابعت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5175]
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے میرے محبوب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں سے منع فرمایا، میں یہ نہیں کہتا کہ آپ نے لوگوں کو منع فرمایا، بلکہ مجھے منع فرمایا: سونے کی انگوٹھی پہننے سے، ریشمی لباس پہننے سے، زرد رنگ سے جو چمکیلا اور لال ہو، اور رکوع و سجدے کی حالت میں قرآن پڑھنے سے ۱؎۔ ضحاک بن عثمان نے داود بن قیس کی متابعت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5175]
اردو حاشہ: (1) ضحاک بن عثمان نے داؤد بن قیس کی متابعت اس طرح کی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن حنین کے درمیان حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا واسطہ ذکر کیا ہے جیسا کہ آگے آنے والی حدیث: 5176 کی سند میں ہے۔ واللہ أعلم.
(2) ”میں نہیں کہتا“ مقصود یہ ہے کہ آپ نے مجھ سے خطاب فرماتے ہوئے مفرد کے صیغے استعمال فرمائے تھے، لہٰذا میں بھی مفرد کے صیغے ہی استعمال کرتا ہوں، جمع کے نہیں ورنہ بیان شدہ چیزیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرح سب مسلمانوں کے لیے حرام ہیں، گویا سونے اور ریشمی کپڑے کی حرمت صرف مردوں کے لیے ہے۔
(3) ”کسم (کسمبھ)“ یہ سرخ رنگ کی ان اقسام میں شامل ہے جو مردوں کےلیے حرام ہیں۔ ہر رنگ کی کئی قسمیں ہوتی ہیں۔
(2) ”میں نہیں کہتا“ مقصود یہ ہے کہ آپ نے مجھ سے خطاب فرماتے ہوئے مفرد کے صیغے استعمال فرمائے تھے، لہٰذا میں بھی مفرد کے صیغے ہی استعمال کرتا ہوں، جمع کے نہیں ورنہ بیان شدہ چیزیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرح سب مسلمانوں کے لیے حرام ہیں، گویا سونے اور ریشمی کپڑے کی حرمت صرف مردوں کے لیے ہے۔
(3) ”کسم (کسمبھ)“ یہ سرخ رنگ کی ان اقسام میں شامل ہے جو مردوں کےلیے حرام ہیں۔ ہر رنگ کی کئی قسمیں ہوتی ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5175 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5615 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´«جعہ» جو سے بنے مشروب کو کہتے ہیں، اور «جعہ» کی نبیذ کی ممانعت کا بیان۔`
مالک بن عمیر بیان کرتے ہیں کہ صعصعہ نے علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ سے کہا: امیر المؤمنین! آپ ہمیں ان باتوں سے منع کیجئیے، جن سے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کدو کی تونبی اور سبز رنگ کے برتن کے استعمال سے روکا۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5615]
مالک بن عمیر بیان کرتے ہیں کہ صعصعہ نے علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ سے کہا: امیر المؤمنین! آپ ہمیں ان باتوں سے منع کیجئیے، جن سے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کدو کی تونبی اور سبز رنگ کے برتن کے استعمال سے روکا۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5615]
اردو حاشہ: یہ نہیں پہلے تھی بعد میں آپ نے اجازت فرما دی کہ برتن کسی چیز کو حلا ل یا حرام نہیں کرتا، البتہ نشے سے بچو۔ اس حدیث کی متعلقہ باب سے کوئی مناسبت نہیں الا یہ کہ سابقہ حدیث کا ٹکڑا ہو۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5615 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3401 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´شراب کے برتنوں میں نبیذ بنانے کی ممانعت۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ نقیر، مزفت، دباء اور حنتمہ میں نبیذ تیار کی جائے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ” ہر نشہ آور چیز حرام ہے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3401]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ نقیر، مزفت، دباء اور حنتمہ میں نبیذ تیار کی جائے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ” ہر نشہ آور چیز حرام ہے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3401]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اہل عرب ان برتنوں میں شراب بناتے تھے۔
اس لئے شروع شروع میں ان میں نبیذ بنانے سے بھی منع فرما دیا گیا تاکہ دوبارہ شراب کی خواہش پیدا نہ ہو۔
(2)
سد ذرائع اسلام کا ایک اہم اور ضروری قانون ہے یعنی جس عمل سے کسی حرام تک پہنچنے کی راہ نکلنے کا خطرہ ہو اس جائز کام سے بھی پرہیز کیا جائے۔
(3)
ان برتنوں میں نبیذ بنانا اس لئے بھی منع کیا گیا کہ ان میں رکھے ہوئے مشروب میں جلد نشہ پیدا ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔
(4)
کدو یا اس سے ملتی جلتی سبزی (مثلا پیٹھا)
جب بیل پر لگی رہے اور پک کر خشک ہوجائے تو اسے برتن کی طرح استعمال کیا جاسکتا ہے۔
کدو سے بنے ہوئے برتن سے یہی مراد ہے۔
(5)
مٹی کے برتن میں تارکول لگا دی جائے۔
یا روغن برتن ہوتو اس کے مسام بند ہوجاتے ہیں۔
اس وجہ سے وہ مٹی کے برتن سے مختلف ہوجاتا ہے۔
اوراس میں نبیذ جلدی شراب میں تبدیل ہوجاتی ہے۔
اس لئے ان سے منع کیا گیا ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
اہل عرب ان برتنوں میں شراب بناتے تھے۔
اس لئے شروع شروع میں ان میں نبیذ بنانے سے بھی منع فرما دیا گیا تاکہ دوبارہ شراب کی خواہش پیدا نہ ہو۔
(2)
سد ذرائع اسلام کا ایک اہم اور ضروری قانون ہے یعنی جس عمل سے کسی حرام تک پہنچنے کی راہ نکلنے کا خطرہ ہو اس جائز کام سے بھی پرہیز کیا جائے۔
(3)
ان برتنوں میں نبیذ بنانا اس لئے بھی منع کیا گیا کہ ان میں رکھے ہوئے مشروب میں جلد نشہ پیدا ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔
(4)
کدو یا اس سے ملتی جلتی سبزی (مثلا پیٹھا)
جب بیل پر لگی رہے اور پک کر خشک ہوجائے تو اسے برتن کی طرح استعمال کیا جاسکتا ہے۔
کدو سے بنے ہوئے برتن سے یہی مراد ہے۔
(5)
مٹی کے برتن میں تارکول لگا دی جائے۔
یا روغن برتن ہوتو اس کے مسام بند ہوجاتے ہیں۔
اس وجہ سے وہ مٹی کے برتن سے مختلف ہوجاتا ہے۔
اوراس میں نبیذ جلدی شراب میں تبدیل ہوجاتی ہے۔
اس لئے ان سے منع کیا گیا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3401 سے ماخوذ ہے۔