حدیث نمبر: 5576
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْخَمْرُ مِنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ النَّخْلَةُ وَالْعِنَبَةُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” شراب ان دو درختوں سے بنتی ہے : کھجور اور انگور “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأشربة / حدیث: 5576
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظرما قبلہ (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 1985 | سنن ترمذي: 1875 | سنن ابي داود: 3678 | سنن ابن ماجه: 3378

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3678 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´شراب کن چیزوں سے بنتی ہے؟`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شراب ان دو درختوں کھجور اور انگور سے بنتی ہے ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3678]
فوائد ومسائل:
فائدہ: اس باب میں تین احادیث بیان کی گئی ہیں۔
پہلی دو احادیث میں رسول اللہ ﷺنے صراحتا متعدد اشیاء بیان فرمایئں۔
جن سے شراب بنائی جاتی تھی۔
آپﷺ کے فرمان کا مقصد بھی یہی ہے۔
کہ شراب کسی بھی چیز سے بنے اگر نشہ آور ہے تو خمر ہے اور حرام ہے۔
تیسری حدیث میں ر سول اللہ ﷺنے یہ بتایا ہے۔
کہ شراب جو عام طور پر ملتی ہے۔
اور رائج ہے۔
وہ ان دو پھلوں سے بنی ہوتی ہے۔
ان الفاظ سے بعض لوگوں نے جو یہ مفہوم نکالاہے۔
کہ شراب صرف وہی ہوگی جو ان دو پھلوں سے بنائی جائے گی۔
درست نہیں۔
رسول اللہ ﷺ کا یہ مقصد نہ ہوسکتا ہے اور نہ تھا۔
یہ آپﷺ کے ایک مختصر قول کو آپﷺ کی بیان کردہ وضاحت سے الگ کرکے اپنی مرضی کا مفہوم بنانے کی کوشش ہے۔
جو کسی طرح بھی روا نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3678 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3378 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´شراب کن چیزوں سے بنتی ہے؟`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شراب ان دو درختوں: کھجور اور انگور سے بنتی ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3378]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
حدیث کا مطلب یہ ہے کہ شراب زیادہ تر ان چیزوں سےبنتی ہے۔

(2)
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ شراب صرف انگور سے بنے ہوئے نشہ آور مشروب کو کہا جاتا ہے یہ رائے درست نہیں۔

(3)
کسی چیز کا رس یاکسی چیز کو پانی میں ڈال کر بنایا ہوا مشروب اگرنشہ آور ہو تو حرام ہے۔
اگرنشہ آور نہ ہو تو حلال ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3378 سے ماخوذ ہے۔