سنن نسائي
كتاب الأشربة— کتاب: مشروبات (پینے والی چیزوں) کے احکام و مسائل
بَابُ : الرُّخْصَةِ فِي انْتِبَاذِ الْبُسْرِ وَحْدَهُ باب: صرف ادھ کچی کھجور کی نبیذ بنانے کی اجازت کا بیان۔
حدیث نمبر: 5574
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُعَافَى يَعْنِي ابْنَ عِمْرَانَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى أَنْ يُنْبَذَ التَّمْرُ وَالزَّبِيبُ ، وَالتَّمْرُ وَالْبُسْرُ ، وَقَالَ : " انْتَبِذُوا الزَّبِيبَ فَرْدًا ، وَالتَّمْرَ فَرْدًا ، وَالْبُسْرَ فَرْدًا " ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : أَبُو كَثِيرٍ اسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سوکھی کھجور اور کشمش ( سوکھے انگور ) ملا کر اور سوکھی کھجور اور ادھ کچی کھجور ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ، اور فرمایا : ” کشمش کی الگ ، سوکھی کھجور کی الگ اور ادھ کچی کھجور کی الگ نبیذ بناؤ “ ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں : ابوکثیر کا نام یزید بن عبدالرحمٰن ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´صرف ادھ کچی کھجور کی نبیذ بنانے کی اجازت کا بیان۔`
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سوکھی کھجور اور کشمش (سوکھے انگور) ملا کر اور سوکھی کھجور اور ادھ کچی کھجور ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا، اور فرمایا: ” کشمش کی الگ، سوکھی کھجور کی الگ اور ادھ کچی کھجور کی الگ نبیذ بناؤ۔“ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: ابوکثیر کا نام یزید بن عبدالرحمٰن ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5574]
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سوکھی کھجور اور کشمش (سوکھے انگور) ملا کر اور سوکھی کھجور اور ادھ کچی کھجور ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا، اور فرمایا: ” کشمش کی الگ، سوکھی کھجور کی الگ اور ادھ کچی کھجور کی الگ نبیذ بناؤ۔“ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: ابوکثیر کا نام یزید بن عبدالرحمٰن ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5574]
اردو حاشہ: امام نسائی ؒ جس ابو کثیر کے نام کی وضاحت فرما رہے ہیں وہ حدیث سابق: 5573 کا راوی ہے، اس لیے اس وضاحت اور تصریح کا اصل مقام سابقہ حدیث کے تحت ہی تھا۔ بہتر یہی تھا کہ یہ وضاحت اس حدیث سے اوپر والی حدیث کے تحت کی جاتی۔ شاید یہ کاتب وغیرہ کا سہو ہو۔ واللہ آعلم۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5574 سے ماخوذ ہے۔