حدیث نمبر: 5560
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " الْبُسْرُ وَحْدَهُ حَرَامٌ وَمَعَ التَّمْرِ حَرَامٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` ادھ کچی کھجور تنہا بھی حرام اور سوکھی کھجور کے ساتھ ملا کر بھی حرام ہے ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی اس کا نبیذ بنانا جائز اور صحیح نہیں ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأشربة / حدیث: 5560
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، حميد الطويل مدلس وعنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 365
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف: 6046) (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´ادھ کچی اور سوکھی کھجور کے سے بنے مشروب (نبیذ) کے ممنوع ہونے کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ادھ کچی کھجور تنہا بھی حرام اور سوکھی کھجور کے ساتھ ملا کر بھی حرام ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5560]
اردو حاشہ: ممکن ہے بسر کی نبیذ میں جلدی نشہ پیدا ہوتا ہو، اس لیے حضرت ابن عباس ؓ اسے حرام سمجھے ہوں۔ بہر صورت یہ حرام تبھی ہے جب اس میں نشہ پید ا ہو جائے ورنہ نہیں مگر بسر وتمر کی مشترکہ نبیذ ہر حال میں حرام ہے نشہ پیدا ہو یا نہ ہو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے مطلقا منع فرمایا ہے۔ اگرچہ احناف کے نزدیک مشترکہ نبیذ اگر نشہ آور نہ ہو تو جائز ہے مگر یہ صریح احادیث کے خلاف ہے۔ رائے اور قیاس نص کے مقابلے میں مذموم ہے۔ (مزید دیکھیے، حدیث: 5549)
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5560 سے ماخوذ ہے۔