سنن نسائي
كتاب الأشربة— کتاب: مشروبات (پینے والی چیزوں) کے احکام و مسائل
بَابُ : تَحْرِيمِ الْخَمْرِ باب: شراب کی حرمت کا بیان۔
أَنْبَأَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ أَبِي مَيْسَرَةَ ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ ، قَالَ عُمَرُ : اللَّهُمَّ بَيِّنْ لَنَا فِي الْخَمْرِ بَيَانًا شَافِيًا , فَنَزَلَتِ الْآيَةُ الَّتِي فِي الْبَقَرَةِ , فَدُعِيَ عُمَرُ فَقُرِئَتْ عَلَيْهِ ، فَقَالَ عُمَرُ : اللَّهُمَّ بَيِّنْ لَنَا فِي الْخَمْرِ بَيَانًا شَافِيًا , فَنَزَلَتِ الْآيَةُ الَّتِي فِي النِّسَاءِ : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَقْرَبُوا الصَّلاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى سورة النساء آية 43 , فَكَانَ مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَقَامَ الصَّلَاةَ نَادَى : " لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى " . فَدُعِيَ عُمَرُ فَقُرِئَتْ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ بَيِّنْ لَنَا فِي الْخَمْرِ بَيَانًا شَافِيًا , فَنَزَلَتِ الْآيَةُ الَّتِي فِي الْمَائِدَةِ ، فَدُعِيَ عُمَرُ , فَقُرِئَتْ عَلَيْهِ فَلَمَّا بَلَغَ : فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ سورة المائدة آية 91 قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : انْتَهَيْنَا انْتَهَيْنَا .
´ابومیسرہ کہتے ہیں کہ` جب شراب کی حرمت نازل ( ہونے کو ) ہوئی تو عمر رضی اللہ عنہ نے ( دعا میں ) کہا : اے اللہ ! شراب کے بارے میں صاف صاف آگاہ فرما دے ، اس پر سورۃ البقرہ کی آیت نازل ہوئی ۱؎ عمر رضی اللہ عنہ کو بلایا گیا اور انہیں یہ آیت پڑھ کر سنائی گئی ، ( پھر بھی ) انہوں نے کہا : اے اللہ ! شراب کے بارے میں صاف صاف آگاہ فرما دے ، اس پر سورۃ نساء کی یہ آیت نازل ہوئی «يا أيها الذين آمنوا لا تقربوا الصلاة وأنتم سكارى» ” اے ایمان والو ! جب تم نشے کی حالت میں تو نماز کے قریب نہ جاؤ “ ( النساء : ۴۳ ) ، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منادی جب اقامت کہتا تو زور سے پکارتا : نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ ، پھر عمر رضی اللہ عنہ کو بلایا گیا اور انہیں پڑھ کر یہ آیت سنائی گئی ، ( پھر بھی ) انہوں نے کہا : اللہ ! شراب کے بارے میں ہمیں صاف صاف آگاہ فرما دے ، اس پر سورۃ المائدہ کی آیت نازل ہوئی ۲؎ ، پھر عمر رضی اللہ عنہ کو بلا کر یہ آیت انہیں سنائی گئی ، جب «فهل أنتم منتهون» پر پہنچے تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : ہم باز آئے ، ہم باز آئے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابومیسرہ کہتے ہیں کہ جب شراب کی حرمت نازل (ہونے کو) ہوئی تو عمر رضی اللہ عنہ نے (دعا میں) کہا: اے اللہ! شراب کے بارے میں صاف صاف آگاہ فرما دے، اس پر سورۃ البقرہ کی آیت نازل ہوئی ۱؎ عمر رضی اللہ عنہ کو بلایا گیا اور انہیں یہ آیت پڑھ کر سنائی گئی، (پھر بھی) انہوں نے کہا: اے اللہ! شراب کے بارے میں صاف صاف آگاہ فرما دے، اس پر سورۃ نساء کی یہ آیت نازل ہوئی «يا أيها الذين آمنوا لا تقربوا الصلاة وأنتم سكارى» ” اے ایمان والو! جب تم نشے کی حالت میں تو نماز کے قر۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5542]