سنن نسائي
كتاب الاستعاذة— کتاب: استعاذہ (بری چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگنے) کے آداب و احکام
بَابُ : الاِسْتِعَاذَةِ مِنْ دُعَاءٍ لاَ يُسْتَجَابُ باب: نہ قبول ہونے والی دعا سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ ابْنِ فُضَيْلٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : كَانَ إِذَا قِيلَ لِزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ : حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : لَا أُحَدِّثُكُمْ إِلَّا مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا بِهِ ، وَيَأْمُرُنَا أَنْ نَقُولَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ ، وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ ، وَالْهَرَمِ ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ ، اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا ، وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَكَّاهَا ، أَنْتَ وَلِيُّهَا وَمَوْلَاهَا ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ ، وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ ، وَمِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ ، وَدَعْوَةٍ لَا تُسْتَجَابُ " .
´عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ` جب زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے کہا جاتا : ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث سنایئے جو آپ نے خود سنی ہو تو وہ کہتے : میں تم سے وہی بیان کر رہا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیان کیا ، آپ ہمیں حکم دیتے کہ ہم کہیں : «اللہم إني أعوذ بك من العجز والكسل والبخل والجبن والهرم وعذاب القبر اللہم آت نفسي تقواها وزكها أنت خير من زكاها أنت وليها ومولاها اللہم إني أعوذ بك من نفس لا تشبع ومن قلب لا يخشع ومن علم لا ينفع ودعوة لا تستجاب» ” اے اللہ ! عاجزی ، سستی ، بخیلی ، بزدلی ، بڑھاپے اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں ، اے اللہ ! تو میرے نفس کو تقویٰ عطا کر ، اسے پاک کر دے ، تو ہی سب سے بہتر پاک کرنے والا ہے ، تو اس کا سر پرست اور مولا ہے ، اے اللہ ! میں ایسے نفس سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو سیر نہ ہو ، ایسے دل سے جس میں خوف الٰہی نہ ہو ، ایسے علم سے جو مفید اور نفع بخش نہ ہو اور ایسی دعا ہے جو قبول نہ ہو “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من الأربع: من علم لا ينفع، ومن قلب لا يخشع، ومن نفس لا تشبع، ومن دعا لا يسمع» ” اے اللہ! میں چار چیزوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں: ایسے علم سے جو نفع بخش نہ ہو، ایسے دل سے جو تجھ سے خوف زدہ نہ ہو، ایسے نفس سے جو سیر نہ ہو اور ایسی دعا سے جو سنی نہ جائے یعنی قبول نہ ہو۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1548]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں میں یہ دعا بھی تھی: «اللهم إني أعوذ بك من علم لا ينفع ومن دعا لا يسمع ومن قلب لا يخشع ومن نفس لا تشبع» ” اے اللہ! میں اس علم سے پناہ مانگتا ہوں جو نفع نہ دے، اور اس دعا سے جو سنی نہ جائے، اور اس دل سے جو (اللہ سے) نہ ڈرے، اور اس نفس سے جو آسودہ نہ ہوتا ہو “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 250]
دعا بھی ا یک عبادت ہے اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مختلف موقعوں پر مختلف دعائیں کرتے تھے۔
اس میں امت کے لیے تعلیم بھی ہے کہ اس طرح دعا کیا کرو۔
(2)
قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں بہت سی دعائیں مذکور ہیں، انسان موقع محل کی مناسبت سے ان میں سے کوئی بھی دعا منتخب کر سکتا ہے۔
ویسے تو اپنے الفاظ میں اور اپنی زبان میں بھی دعا کرنا درست ہے، لیکن زبان رسالت سے جو دعائیں ادا ہوئیں ہیں ان کی سی برکت دوسری دعاؤں میں نہیں ہو سکتی۔
اس کے علاوہ ان الفاظ میں دعا مانگنے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا و اتباع کا جو شرف حاصل ہوتا ہے، وہ دوسرے الفاظ سے نہیں ہو سکتا اگرچہ وہ الفاظ بظاہر کتنے ہی خوبصورت اور عمدہ ہوں۔
(3)
علم نافع، جس کی دعا اس حدیث میں کی گئی ہے، اس سے مراد وہ علم ہے جس پر عمل بھی ہو کیونکہ عمل صالح ہی سے دنیا و آخرت میں فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔
(4)
وہ دعا جو سنی نہ جائے، یعنی قبول نہ ہو۔
اس سے پناہ کا مطلب یہ درخواست ہے کہ اللہ تعالیٰ میری تمام دعائیں قبول فرمائے اور مجھے پورے آداب کے ساتھ ایسی دعا کرنے کی توفیق بخشے جو اللہ کے ہاں شرف قبولیت حاصل کر سکے۔
(4)
’’سیر نہ ہونے والے نفس‘‘ سے مراد نیا کی دولت، شہرت، منصب وغیرہ کا حریص نفس ہے۔
زیادہ سے زیادہ علم نافع کی طلب اور موجود علم سے سیر نہ ہونا ایک اچھی خصلت ہے، اس لیے حکم دیا گیا ہے: ﴿وَقُل رَّبِّ زِدْنِى عِلْمًا﴾ (طہ: 114)
’’(اے نبی!)
آپ کہیے: اے میرے رب! میرے علم میں اضافہ فرما۔‘‘
(5)
اس میں علم نافع کی فضیلت ہے کیونکہ اس کے لیے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی دعا کی ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من الأربع من علم لا ينفع ومن قلب لا يخشع ومن نفس لا تشبع ومن دعا لا يسمع» ” اے اللہ! میں چار باتوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں: اس علم سے جو فائدہ نہ دے، اس دل سے جو اللہ کے سامنے نرم نہ ہو، اس نفس سے جو آسودہ نہ ہو اور اس دعا سے جو قبول نہ ہو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3837]
فوائد و مسائل:
اس میں علم پر عمل کی توفیق، تقویٰ اور قناعت کی دعا ہے اور دعا کی قبولیت کی درخواست بھی۔
مومن کو اپنے اندریہ صفات پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور اللہ سے اچھی امیدیں رکھنی چاہئیں۔
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من الكسل والعجز والبخل» ” اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں، سستی و کاہلی سے، عاجزی و درماندگی سے اور کنجوسی و بخیلی سے “، اور اسی سند سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی آئی ہے کہ آپ پناہ مانگتے تھے بڑھاپے اور عذاب قبر سے۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3572]
وضاحت:
1؎:
اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں، سستی وکاہلی سے، عاجزی و درماندگی سے اورکنجوسی و بخیلی سے۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللہم إني أعوذ بك من العجز والكسل والبخل والجبن والهرم وعذاب القبر وفتنة المحيا والممات» ” اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں عاجزی و بے بسی، سستی و کاہلی، بخیلی و کنجوسی، بزدلی و کم ہمتی، بڑھاپے، قبر کے عذاب اور موت و زندگی کے فتنے سے۔“ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5461]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہا کرتے تھے: «اللہم إني أعوذ بك من الجوع فإنه بئس الضجيع وأعوذ بك من الخيانة فإنها بئست البطانة» ” اے اللہ! میں بھوک سے تیری پناہ مانگتا ہوں کیونکہ وہ برا ساتھی ہے، اور خیانت سے پناہ مانگتا ہوں کیونکہ وہ بری خصلت (عادت) ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5470]
(2) خیانت حقوق اللہ میں ہو یا حقوق العباد میں‘ قابل مذمت ہے کیونکہ یہ ایمان کے منافی ہے۔ نفاق کی دلیل ہے۔ أعاذنا اللہ منھما۔ آمین
”. . . آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! میں چار چیزوں، ایسے علم سے جو نفع مند نہ ہو، ایسے دل سے جو ڈرتا نہ ہو، ایسے نفس سے جو سیر نہ ہوتا ہو اور ایسی دعا سے جو سنی نہ جاتی ہو، تیری پناہ چاہتا ہوں۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب العلم/حدیث: 9]
قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں بہت سی دعائیں مذکور ہیں، انسان موقع محل کی مناسبت سے ان میں سے کوئی بھی دعا منتخب کر سکتا ہے۔
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا چار چیزوں سے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ ذوالجلال کی پناہ مانگتے: ➊۔۔۔ علم کی دو اقسام ہیں ایک علم نافع اور دوسرا غیر نافع۔
٭ علم نافع:
علم نافع وہ ہے جس سے انسان اپنے رب کا تقرب حاصل کرے اور اس کے دین کی معرفت اور حق کے راستہ میں بصیرت حاصل کرے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا فرمایا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ انْفَعْنِي بِمَا عَلَّمْتَنِي، وَعَلِّمْنِي مَا يَنْفَعُنِي، وَزِدْنِي عِلْمًا» [ترمذي، رقم: 3599]
”اے اللہ! تو مجھے جو علم نصیب فرمائے اس سے مجھے فائدہ پہنچا اور مجھے وہ علم دے جو مجھے فائدہ دے اور میرے علم میں اضافہ فرما۔“
٭ غیر نافع:
جیسا کہ اللہ ذوالجلال نے جادوگروں اور ہاروت وماروت کی سکھائی ہوئی باتوں کے پیچھے چلنے والوں کے متعلق فرمایا: «وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنفَعُهُمْ» [البقره 102]
”وہ ایسی چیز سیکھتے ہیں جو انہیں نقصان پہنچاتی ہے اور انہیں فائدہ نہیں دیتی۔“
اسی طرح ناول، افسانے اور گندی باتیں ہیں۔ اس لیے آدمی کو صرف وہ علم سیکھنا چاہیے جو دنیا و آخرت کے لیے نفع دینے والا ہو۔ اور ایسے علم کی دعا کرتے رہنا چاہیے جیسا کہ حدیث میں ہے نبی معظم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز سے جب فارغ ہوتے تو فرماتے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا، وَرِزْقًا طَيِّبًا، وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا» [ابن ماجه 925]
”اے اللہ میں تجھ سے نفع بخش علم، پاک روزی اور مقبول مل کا سوال کرتا ہوں۔“
➋۔۔۔ مذکورہ حدیث سے خشوع کی بھی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، کیونکہ جس دل میں خوف خدا نہیں وہ نیکیوں میں معاون یا گناہوں سے بچانے والا نہیں بن سکتا۔
➌۔۔۔ سیر نہ ہونے والے نفس سے مراد دنیا کی دولت، شہرت اور منصب وغیرہ کا حریص نفس ہے۔
➍۔۔۔ وہ دعا جو سنی نہ جائے یعنی قبول نہ ہو، مطلب یہ کہ میری دعائیں قبول فرمانا۔
یہ بھی معلوم ہوا کہ دعائیں دو طرح کی ہیں۔
ایک وہ جو اللہ ذوالجلال کے ہاں قبول ہوتی ہے۔ دوسری جو قبول نہیں ہوتی۔