سنن نسائي
كتاب الاستعاذة— کتاب: استعاذہ (بری چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگنے) کے آداب و احکام
بَابُ : الاِسْتِعَاذَةِ مِنْ ضِيقِ الْمَقَامِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ باب: قیامت کے روز جگہ کی تنگی سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ صَالِحٍ حَدَّثَهُ ، وَحَدَّثَنِي أَزْهَرُ بْنُ سَعِيدٍ ، يُقَالُ لَهُ : الْحَرَازِيُّ شَامِيٌّ عَزِيز الْحَدِيث ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ : بِمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ قِيَامَ اللَّيْلِ ؟ ، قَالَتْ : سَأَلْتَنِي عَنْ شَيْءٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ , كَانَ يُكَبِّرُ عَشْرًا ، وَيُسَبِّحُ عَشْرًا ، وَيَسْتَغْفِرُ عَشْرًا ، وَيَقُولُ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ، وَاهْدِنِي ، وَارْزُقْنِي ، وَعَافِنِي ، وَيَتَعَوَّذُ مِنْ ضِيقِ الْمَقَامِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
´عاصم بن حمید کہتے ہیں کہ` میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں تہجد کس دعا سے شروع کرتے تھے ؟ وہ بولیں : تم نے مجھ سے ایسی بات پوچھی ہے جو کسی نے نہیں پوچھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم دس بار «اللہ اکبر» کہتے ، دس بار «سبحان اللہ» کہتے ، دس بار «استغفراللہ» کہتے ، اور کہتے : «اللہم اغفر لي واهدني وارزقني وعافني» ” اے اللہ ! میری مغفرت فرما ، مجھے ہدایت دے ، مجھے روزی عطا کر ، مجھے محفوظ رکھ “ ، اور آپ قیامت کے روز کھڑے ہونے کی پریشانی ( سوال کے لیے ) سے اللہ کی پناہ مانگتے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عاصم بن حمید کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں تہجد کس دعا سے شروع کرتے تھے؟ وہ بولیں: تم نے مجھ سے ایسی بات پوچھی ہے جو کسی نے نہیں پوچھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم دس بار «اللہ اکبر» کہتے، دس بار «سبحان اللہ» کہتے، دس بار «استغفراللہ» کہتے، اور کہتے: «اللہم اغفر لي واهدني وارزقني وعافني» " اے اللہ! میری مغفرت فرما، مجھے ہدایت دے، مجھے روزی عطا کر، مجھے م [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5537]
(2) یہ ذکر اوردعا ممکن ہے نماز شروع کرنے سے پہلے فرماتے ہوں۔ اگردعائے استفتاح کی جگہ ہو تب بھی کوئی حرج نہیں۔