سنن نسائي
كتاب الاستعاذة— کتاب: استعاذہ (بری چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگنے) کے آداب و احکام
بَابُ : الاِسْتِعَاذَةِ مِنَ التَّرَدِّي وَالْهَدْمِ باب: گر پڑنے اور مکان یا دیوار سے دبنے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ صَيْفِيٍّ ، عَنْ أَبِي الْيَسَرِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو ، فَيَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَرَمِ وَالتَّرَدِّي ، وَالْهَدْمِ وَالْغَمِّ ، وَالْحَرِيقِ وَالْغَرَقِ ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ يَتَخَبَّطَنِي الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَوْتِ ، وَأَنْ أُقْتَلَ فِي سَبِيلِكَ مُدْبِرًا ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَمُوتَ لَدِيغًا " .
´ابوالیسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا فرماتے تو کہتے : «اللہم إني أعوذ بك من الهرم والتردي والهدم والغم والحريق والغرق وأعوذ بك أن يتخبطني الشيطان عند الموت وأن أقتل في سبيلك مدبرا وأعوذ بك أن أموت لديغا» ” اے اللہ ! میں بڑھاپے سے ، گر پڑنے ، دب جانے ، رنج و غم میں مبتلا ہونے سے ، جل جانے اور ڈوب جانے سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، اور اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ شیطان مجھے موت کے وقت بہکا دے ، اور اس بات سے کہ میں تیرے راستہ یعنی جہاد میں پیٹھ دکھا کر بھاگتے ہوئے مارا جاؤں ، اور تیری پناہ مانگتا ہوں اس بات سے بھی کہ میری موت کسی موذی جانور کے ڈس لینے سے ہو “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوالیسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من الهدم، وأعوذ بك من التردي، وأعوذ بك من الغرق، والحرق والهرم، وأعوذ بك أن يتخبطني الشيطان عند الموت، وأعوذ بك أن أموت في سبيلك مدبرا، وأعوذ بك أن أموت لديغا» ” اے اللہ! کسی مکان یا دیوار کے اپنے اوپر گرنے سے میں تیری پناہ مانگتا ہوں۔ میں اونچے مقام سے گر پڑنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ میں ڈوبنے، جل جانے اور بہت بوڑھا ہو جانے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ موت کے وقت مجھے شیطان اچک لے۔ اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں تیری راہ میں پیٹھ دکھا کر بھاگتے ہوئے مارا جاؤں اور اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ کسی زہریلے جانور کے کاٹنے سے میری موت آئے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1552]
شیخ البانی نے اس حدیث کی تصحیح کی ہے۔