حدیث نمبر: 552
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قال : حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، قال : أَنْبَأَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الْفَجْرِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَهَا ، وَمَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے سورج نکلنے سے پہلے فجر کی ایک رکعت پالی اس نے فجر پالی ، اور جس نے سورج ڈوبنے سے پہلے عصر کی ایک رکعت پالی اس نے عصر پالی “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المواقيت / حدیث: 552
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/المساجد 30 (609)، سنن ابن ماجہ/الصلاة 11 (700)، (تحفة الأشراف: 16705)، مسند احمد 6/78 (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´جس نے سورج طلوع ہونے سے پہلے نماز فجر کی ایک رکعت پا لی۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے سورج نکلنے سے پہلے فجر کی ایک رکعت پالی اس نے فجر پالی، اور جس نے سورج ڈوبنے سے پہلے عصر کی ایک رکعت پالی اس نے عصر پالی۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 552]
552۔ اردو حاشیہ: تفصیل کے لیے حدیث نمبر515 اور اس کے فوائدومسائل ملاحظہ فرمائیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 552 سے ماخوذ ہے۔