سنن نسائي
كتاب الاستعاذة— کتاب: استعاذہ (بری چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگنے) کے آداب و احکام
بَابُ : الاِسْتِعَاذَةِ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا باب: زندگی کے فتنے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5512
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ وَذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا عَلْقَمَةَ الْهَاشِمِيَّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ " ، وَكَانَ : " يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، وَعَذَابِ جَهَنَّمَ ، وَفِتْنَةِ الْأَحْيَاءِ وَالْأَمْوَاتِ ، وَفِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” جس نے میری اطاعت کی ، اس نے اللہ کی اطاعت کی ، جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی “ ، آپ قبر کے عذاب ، جہنم کے عذاب ، زندہ اور مردہ لوگوں کو پہنچنے والے فتنے اور مسیح دجال ( کانا دجال ) کے فتنے سے پناہ مانگتے تھے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´زندگی کے فتنے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: " جس نے میری اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی، جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی "، آپ قبر کے عذاب، جہنم کے عذاب، زندہ اور مردہ لوگوں کو پہنچنے والے فتنے اور مسیح دجال (کانا دجال) کے فتنے سے پناہ مانگتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5512]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: " جس نے میری اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی، جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی "، آپ قبر کے عذاب، جہنم کے عذاب، زندہ اور مردہ لوگوں کو پہنچنے والے فتنے اور مسیح دجال (کانا دجال) کے فتنے سے پناہ مانگتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5512]
اردو حاشہ: زندوں اورمردوں کےفتنے سےمراد بھی زندگی اورموت کا فتنہ ہی ہے یعنی وہ فتنہ جو زندوں یا مردوں کو لاحق ہوتا ہے۔ زندوں کا فتنہ گمراہی اورمردوں کا فتنہ بر انجام یعنی برموت ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5512 سے ماخوذ ہے۔