حدیث نمبر: 5507
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزِّنَادِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں جہنم کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں ، قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں ، مسیح دجال کے شر و فتنہ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں ، اور موت و زندگی کے فتنے کے شر سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الاستعاذة / حدیث: 5507
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: سكت عنه الشيخ , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 13914) (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´جہنم کے عذاب اور مسیح دجال کے شر و فتنہ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " میں جہنم کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، مسیح دجال کے شر و فتنہ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، اور موت و زندگی کے فتنے کے شر سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔‏‏‏‏" [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5507]
اردو حاشہ: (1) اس حدیث مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے کہ عذاب قبر نیز زندگی اورموت کےفتنے سے پناہ مانگنا مشروع ہے۔ عذاب قبر کا برحق ہونا بھی اس حدیث سے ثابت ہوا اور برزخی زندگی کی طرف اشارہ بھی ہوتا ہے اگرچہ وہ ہمارے شعور اورفہم سے بالاتر ہے۔
(2) یہ حدیث مبارکہ رسول اللہ ﷺ کی نبوت کی بھی بہت بڑی دلیل ہے کہ آپ نے یہ خبر دی ہے کہ آخری زمانے میں مسیح دجال آئے گا۔ اورامت کو اس کے فتنے سےخبردار کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے شراورفتنے سے بچنے کی دعائیں بھی سکھلائی ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5507 سے ماخوذ ہے۔