حدیث نمبر: 5504
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ جَارِ السَّوْءِ فِي دَارِ الْمُقَامِ ، فَإِنَّ جَارَ الْبَادِيَةِ يَتَحَوَّلُ عَنْكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مستقل رہنے کی جگہ میں برے اور خراب پڑوسی سے اللہ کی پناہ مانگو ، اس لیے کہ صحراء کا پڑوسی ۱؎ تو تم سے جدا ہی ہو جائے گا “ ۔

وضاحت:
۱؎: جو کچھ دیر کے لیے پڑوسی ہو اور اس کی مستقل رہائش گاہ وہاں نہ ہو، جیسے سفر کا پڑوسی، کلاس کا پڑوسی وغیرہ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الاستعاذة / حدیث: 5504
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 13054)، مسند احمد (2/34646) (حسن، صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´برے اور خراب پڑوسی سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مستقل رہنے کی جگہ میں برے اور خراب پڑوسی سے اللہ کی پناہ مانگو، اس لیے کہ صحراء کا پڑوسی ۱؎ تو تم سے جدا ہی ہو جائے گا۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5504]
اردو حاشہ: مستقل رہائش گاہ سے مراد شہر اوربستیاں ہیں جہاں مکانات بنائے جاتے ہیں جوصدیوں تک قائم رہتے ہیں اورعارضی پروسی سےمراد سفر اورصحرا کا پڑوسی ہے جہاں عارضی خیمے لگائے جاتےہیں اورکچھ دیربعد اکھیڑ لیے جاتےہیں۔ ظاہر ہےبستی کا پڑوسی توساری زندگی کا پڑوسی رہے گا لہٰذا وہ اچھا ہونا چاہیے ورنہ زندگی اجیرن بنی رہے گی۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5504 سے ماخوذ ہے۔