حدیث نمبر: 5497
أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ , كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ ، وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ ، وَسُوءِ الْكِبَرِ وَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کے ذریعے پناہ مانگتے تھے ، آپ کہتے تھے : «اللہم إني أعوذ بك من الكسل والهرم والجبن والبخل وسوء الكبر وفتنة الدجال وعذاب القبر» ” اے اللہ ! میں سستی و کاہلی ، بڑھاپے ، بزدلی و کم ہمتی ، بخیلی و کنجوسی ، بڑھاپے کی برائی ، دجال کے فتنے اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الاستعاذة / حدیث: 5497
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 661) (صحیح الإسناد)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 2058 | سنن ابن ماجه: 3511

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2058 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´معوذتین (سورۃ الفلق و سورۃ الناس) کے ذریعہ جھاڑ پھونک کرنے کا بیان۔`
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنوں اور انسان کی نظر بد سے پناہ مانگا کرتے تھے، یہاں تک کہ معوذتین (سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) نازل ہوئیں، جب یہ سورتیں اتر گئیں تو آپ نے ان دونوں کو لے لیا اور ان کے علاوہ کو چھوڑ دیا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الطب عن رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2058]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
ان دونوں سورتوں یعنی ﴿قُلْ أَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ اور ﴿قُلْ أَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ کے بہت سارے فائدے ہیں، انہیں صبح وشام تین تین بار پڑھنے والا إن شاء اللہ مختلف قسم کی بلاؤں اورآفتوں سے محفوظ رہے گا، ان سورتوں کے نازل ہونے کے بعد نبی اکرم ﷺ انہیں دونوں کے ذریعہ پناہ مانگا کرتے تھے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2058 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3511 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´نظر بد لگنے پر دم کرنے کا بیان۔`
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنوں کی نظر بد سے، پھر آدمیوں کی نظر بد سے پناہ مانگتے تھے، پھر جب معوذتین (سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) نازل ہوئیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو پڑھنا شروع کیا، اور باقی تمام چیزیں چھوڑ دیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3511]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
لہٰذا مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد کی بنا پر قابل عمل ہے۔
مزید تفصیل کےلئے دیکھئے: (ہدایة الرواۃ إلی التخریج أحادیث المصابیح والمشکاۃ، رقم: 4288 وسنن ابن ماجة بتحقیق محمود محمد محمود حسن نصار: 3511)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3511 سے ماخوذ ہے۔