حدیث نمبر: 5495
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُنُونِ ، وَالْجُذَامِ ، وَالْبَرَصِ ، وَسَيِّئِ الْأَسْقَامِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہتے تھے : «اللہم إني أعوذ بك من الجنون والجذام والبرص وسييء الأسقام» ” اے اللہ ! جنون ( پاگل پن ) ، جذام ، برص اور برے امراض سے تیری پناہ مانگتا ہوں “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الاستعاذة / حدیث: 5495
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (1554) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 364
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 1554

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´جنون اور پاگل پن سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔`
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہتے تھے: «اللہم إني أعوذ بك من الجنون والجذام والبرص وسييء الأسقام» اے اللہ! جنون (پاگل پن)، جذام، برص اور برے امراض سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5495]
اردو حاشہ: (1) بعض بیماریاں دیرپا ہوتی ہیں اور ان کے اثرات ختم نہیں ہوتے۔ موت تک کے لیے لازمہ بن جاتی ہیں۔ لوگ نفرت کرنے لگتے ہیں۔ جسم عیب دار بن جاتا ہے یا وہ انسانی عقل کے لیے نقصان دہ ہوتی ہیں کہ انسان جانورں جیسے کام کرنے لگ جاتا ہے۔ ایسی بیماریوں کو بری بیماریوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ حدیث میں مذکورہ بیماریوں کے علاوہ دور حاضر کی بیماریاں فالج‘ کینسر‘ ایڈز‘ پولیو وغیرہ ایسی ہی بیماریاں ہیں۔ أعاذنا اللہ منھا۔ جبکہ بعض بیماریاں عارضی ہوتی ہیں‘ برے اثرات نہیں چھوڑتیں بلکہ بسا اوقات جسم کی اصلاح کرتی ہیں‘ مثلاً: معمولی بخار‘ زکام اور سر درد وغیرہ۔ ایسی بیماریاں انسان کے گناہوں کا کفارہ بنتی ہیں اور بڑی بیماریوں سے بچاؤ کا ذریعہ بھی ہوتی ہیں۔
(2) یہ روایت دیگر محققین کے نزدیک صحیح ہے اور انھی کی بات راجح ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعة الحدیثیة‘مسند الإمام أحمد:309/20)
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5495 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1554 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´(بری باتوں سے اللہ کی) پناہ مانگنے کا بیان۔`
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من البرص، والجنون، والجذام، ومن سيئ الأسقام» اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں برص، دیوانگی، کوڑھ اور تمام بری بیماریوں سے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1554]
1554. اردو حاشیہ: اس قسم کی بیماریوں میں بعض اوقات انسان اپنے آپ سے بھی بیزار ہو جاتا ہے اور تیمار داروں کو بھی مشقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ [عافانا الله منها]
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1554 سے ماخوذ ہے۔