سنن نسائي
كتاب الاستعاذة— کتاب: استعاذہ (بری چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگنے) کے آداب و احکام
بَابُ : الاِسْتِعَاذَةِ مِنْ غَلَبَةِ الْعَدُوِّ باب: دشمن کے قہر و غلبے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5489
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ ، وَغَلَبَةِ الْعَدُوِّ ، وَشَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کے ذریعہ دعا کرتے تھے : «اللہم إني أعوذ بك من غلبة الدين وغلبة العدو وشماتة الأعداء» ” اے اللہ ! میں قرض کے غلبے سے ، دشمن کے قہر و غلبے سے ، اور مصیبت میں دشمنوں کے خوش ہونے سے تیری پناہ مانگتا ہوں “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´دشمن کے قہر و غلبے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کے ذریعہ دعا کرتے تھے: «اللہم إني أعوذ بك من غلبة الدين وغلبة العدو وشماتة الأعداء» ” اے اللہ! میں قرض کے غلبے سے، دشمن کے قہر و غلبے سے، اور مصیبت میں دشمنوں کے خوش ہونے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5489]
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کے ذریعہ دعا کرتے تھے: «اللہم إني أعوذ بك من غلبة الدين وغلبة العدو وشماتة الأعداء» ” اے اللہ! میں قرض کے غلبے سے، دشمن کے قہر و غلبے سے، اور مصیبت میں دشمنوں کے خوش ہونے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5489]
اردو حاشہ: دیکھیے روایت: 5477۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5489 سے ماخوذ ہے۔