سنن نسائي
كتاب الاستعاذة— کتاب: استعاذہ (بری چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگنے) کے آداب و احکام
بَابُ : الاِسْتِعَاذَةِ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا باب: دنیا کے فتنے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5482
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عُمَرَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ : " يَتَعَوَّذُ مِنَ : الْجُبْنِ وَالْبُخْلِ ، وَسُوءِ الْعُمُرِ ، وَفِتْنَةِ الصَّدْرِ ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بزدلی و کم ہمتی ، کنجوسی و بخیلی ، بری اور لاچاری و مجبوری کی عمر ، سینے کے فتنے اور قبر کے عذاب سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے تھے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´دنیا کے فتنے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔`
عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بزدلی و کم ہمتی، کنجوسی و بخیلی، بری اور لاچاری و مجبوری کی عمر، سینے کے فتنے اور قبر کے عذاب سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5482]
عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بزدلی و کم ہمتی، کنجوسی و بخیلی، بری اور لاچاری و مجبوری کی عمر، سینے کے فتنے اور قبر کے عذاب سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5482]
اردو حاشہ: دیکھیے روایات: 5446‘5447۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5482 سے ماخوذ ہے۔