حدیث نمبر: 5471
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ وَذَكَرَ آخَرَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُوعِ فَإِنَّهُ بِئْسَ الضَّجِيعُ ، وَمِنَ الْخِيَانَةِ فَإِنَّهَا بِئْسَتِ الْبِطَانَةُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے : «اللہم إني أعوذ بك من الجوع فإنه بئس الضجيع ومن الخيانة فإنها بئست البطانة» ” اے اللہ ! میں بھوک سے تیری پناہ مانگتا ہوں کیونکہ وہ برا ساتھی ہے اور خیانت سے کیونکہ وہ بری خصلت ( عادت ) ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الاستعاذة / حدیث: 5471
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (1547) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 364
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ (حسن، صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 1547 | سنن ابن ماجه: 3354 | سنن نسائي: 5472

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1547 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´(بری باتوں سے اللہ کی) پناہ مانگنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من الجوع فإنه بئس الضجيع، وأعوذ بك من الخيانة فإنها بئست البطانة» اے اللہ! میں بھوک سے تیری پناہ مانگتا ہوں وہ بہت بری ساتھی ہے، میں خیانت سے تیری پناہ مانگتا ہوں وہ بہت بری خفیہ خصلت ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1547]
1547. اردو حاشیہ: اس حدیث اور دعا سے یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ محض بھوک اور فاقے میں کوئی ثواب نہیں، اللہ اس سے محفوظ رکھے۔ وہی بھوک اللہ کے ہاں مفید ہے جو تقرب کی نیت سے ہو یعنی ’’روزہ‘‘ اور ’’خیانت‘‘جو ’’امانت‘‘ کی ضد ہے دینی، دنیاوی اور مادی و معنوی تمام امور کو شامل ہے۔ اللہ اس سے بچائے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1547 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3354 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´بھوک سے اللہ کی پناہ مانگنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من الجوع فإنه بئس الضجيع وأعوذ بك من الخيانة فإنها بئست البطانة» اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں بھوک سے کہ وہ بدترین ساتھی ہے، اور تیری پناہ مانگتا ہوں خیانت سے کہ وہ بری خفیہ خصلت ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3354]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
 
(1)
جس طرح زیادہ کھانا اور عیش اچھا نہیں اسی طرح زیادہ بھوک اور فقر جس پر صبر نہ ہو سکے بہتر نہیں۔

(2)
حلال روزی مانگنا اور اس کے حصول کی کوشش کرنا زہد و توکل کےمنافی نہیں۔

(3)
ضجیع کا لفظی مطلب ’’ساتھ لیٹنے والا‘‘  ہے۔
بھوک کی حالت میں نہ توجہ سے عبادت ادا ہو سکتی ہے اور نہ آرام سے سویا جا سکتا ہے۔
ایسی بھوک سے اللہ کی پناہ مانگنا ہی بہتر ہے۔

(4)
بطانة اس لباس کو کہتے ہیں جو جسم سے متصل پہنا جاتا ہے اور دوسرے کپڑے اسے چھپا لیتے ہیں۔
اسی وجہ سے انتہائی گہرا دوست جو انسان کے ذاتی معاملات سے واقف ہو اسے بھی بطانہ کہتے ہیں۔
خیانت ایک پوشیدہ عیب ہے۔
جب راز فاش ہو جائے تو انسان بدنام ہو جاتا ہے اس لیے اس سے محفوظ رہنے کی دعا کرنے کی ضرورت ہے۔

(5)
نیک آدمی کو نیکی پر قائم رہنے کے لیے بھی اللہ تعالیٰ سے مدد اور توفیق کی دعا کرتے رہنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3354 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5472 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´دشمنی، نفاق اور برے اخلاق سے اللہ کی پناہ مانگنے کا بیان۔`
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعائیں مانگتے تھے: «اللہم إني أعوذ بك من علم لا ينفع وقلب لا يخشع ودعا لا يسمع ونفس لا تشبع» اللہ! میں ایسے علم سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو مفید اور نفع بخش نہ ہو، ایسے دل سے جس میں (اللہ کا) ڈر نہ ہو، ایسی دعا سے جو قبول نہ ہو اور ایسے نفس سے جو سیراب نہ ہو ، پھر فرماتے: «‏اللہم إني أعوذ بك من هؤلاء الأربع ‏» اے اللہ! میں ان چاروں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔‏‏ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5472]
اردو حاشہ: یہ حدیث صراحتاً باب سے مطابقت نہیں رکھتی بلکہ آئندہ حدیث باب کے مطابق ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ حدیث کسی ناسخ کی غلطی سے یہاں لکھی گئی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5472 سے ماخوذ ہے۔