سنن نسائي
كتاب الاستعاذة— کتاب: استعاذہ (بری چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگنے) کے آداب و احکام
بَابُ : الاِسْتِعَاذَةِ مِنَ الْفَقْرِ باب: فقر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ يَعْنِي الشَّحَّامَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنَّهُ كَانَ سَمِعَ وَالِدَهُ يَقُولُ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ " , فَجَعَلْتُ أَدْعُو بِهِنَّ ، فَقَالَ : يَا بُنَيَّ , أَنَّى عُلِّمْتَ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ ، قُلْتُ : يَا أَبَتِ , سَمِعْتُكَ تَدْعُو بِهِنَّ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ فَأَخَذْتُهُنَّ عَنْكَ ، قَالَ : فَالْزَمْهُنَّ يَا بُنَيَّ ، فَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو بِهِنَّ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ .
´مسلم بن ابی بکرہ بیان کرتے ہیں کہ` میں نے نماز کے بعد اپنے والد کو یہ دعا مانگتے ہوئے سنا : «اللہم إني أعوذ بك من الكفر والفقر وعذاب القبر» ” اے اللہ ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں کفر سے ، فقر سے ، اور عذاب قبر سے “ ، تو میں بھی وہی دعا کرنے لگا ، وہ بولے : اے میرے بیٹے ! تم نے ( دعا کے ) یہ کلمات کہاں سے سیکھے ؟ میں نے عرض کیا : ابو جان ! میں نے آپ کو نماز کے بعد ( یا نماز کے اخیر میں ) یہی دعا مانگتے سنا ۔ تو میں نے آپ سے ہی یہ لیے ہیں ، وہ بولے : میرے بیٹے ! اس دعا کو لازم کر لو ، اس لیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی نماز کے بعد یہ دعا مانگتے تھے ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
مسلم بن ابی بکرہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نماز کے بعد اپنے والد کو یہ دعا مانگتے ہوئے سنا: «اللہم إني أعوذ بك من الكفر والفقر وعذاب القبر» ” اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں کفر سے، فقر سے، اور عذاب قبر سے “، تو میں بھی وہی دعا کرنے لگا، وہ بولے: اے میرے بیٹے! تم نے (دعا کے) یہ کلمات کہاں سے سیکھے؟ میں نے عرض کیا: ابو جان! میں نے آپ کو نماز کے بعد (یا نماز کے اخیر میں) یہی دعا مانگتے سنا۔ تو میں نے آپ سے ہی یہ لیے ہیں، وہ بولے: میر۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5467]