حدیث نمبر: 5467
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ يَعْنِي الشَّحَّامَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنَّهُ كَانَ سَمِعَ وَالِدَهُ يَقُولُ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ " , فَجَعَلْتُ أَدْعُو بِهِنَّ ، فَقَالَ : يَا بُنَيَّ , أَنَّى عُلِّمْتَ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ ، قُلْتُ : يَا أَبَتِ , سَمِعْتُكَ تَدْعُو بِهِنَّ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ فَأَخَذْتُهُنَّ عَنْكَ ، قَالَ : فَالْزَمْهُنَّ يَا بُنَيَّ ، فَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو بِهِنَّ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´مسلم بن ابی بکرہ بیان کرتے ہیں کہ` میں نے نماز کے بعد اپنے والد کو یہ دعا مانگتے ہوئے سنا : «اللہم إني أعوذ بك من الكفر والفقر وعذاب القبر» ” اے اللہ ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں کفر سے ، فقر سے ، اور عذاب قبر سے “ ، تو میں بھی وہی دعا کرنے لگا ، وہ بولے : اے میرے بیٹے ! تم نے ( دعا کے ) یہ کلمات کہاں سے سیکھے ؟ میں نے عرض کیا : ابو جان ! میں نے آپ کو نماز کے بعد ( یا نماز کے اخیر میں ) یہی دعا مانگتے سنا ۔ تو میں نے آپ سے ہی یہ لیے ہیں ، وہ بولے : میرے بیٹے ! اس دعا کو لازم کر لو ، اس لیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی نماز کے بعد یہ دعا مانگتے تھے ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: حدیث میں «دبر الصلاۃ» جس کے معنی نماز کے بعد بھی ہو سکتے ہیں، اور نماز کے اخیر میں بھی ہو سکتے ہیں، دونوں معنوں میں یہ لفظ وارد ہوا ہے، لیکن بقول شیخ الاسلام ابن تیمیہ سلام سے پہلے دعا کی قبولیت زیادہ متوقع ہے، بمقابلہ سلام کے بعد کے، کیونکہ سلام سے پہلے بندہ اللہ تعالیٰ سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الاستعاذة / حدیث: 5467
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 1348 (صحیح الإسناد)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´فقر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔`
مسلم بن ابی بکرہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نماز کے بعد اپنے والد کو یہ دعا مانگتے ہوئے سنا: «اللہم إني أعوذ بك من الكفر والفقر وعذاب القبر» اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں کفر سے، فقر سے، اور عذاب قبر سے ، تو میں بھی وہی دعا کرنے لگا، وہ بولے: اے میرے بیٹے! تم نے (دعا کے) یہ کلمات کہاں سے سیکھے؟ میں نے عرض کیا: ابو جان! میں نے آپ کو نماز کے بعد (یا نماز کے اخیر میں) یہی دعا مانگتے سنا۔ تو میں نے آپ سے ہی یہ لیے ہیں، وہ بولے: میر۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5467]
اردو حاشہ: نماز کے بعد عربی لفظ دُبُر استعمال ہوا ہے جس کے معنیٰ بعد بھی ہے اور آخر بھی‘ لہٰذا دوسرا ترجمہ یہ ہو سکتا ہے نماز کے آخر میں یعنی درود پڑھنے کے بعد پڑھی جانے والی دعاؤں میں‘ سلام سے پہلے۔ واللہ أعلم
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5467 سے ماخوذ ہے۔