حدیث نمبر: 5448
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ زَكَرِيَّا ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ مِنَ خَمْسٍ : مِنَ الْبُخْلِ ، وَالْجُبْنِ ، وَسُوءِ الْعُمُرِ ، وَفِتْنَةِ الصَّدْرِ ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پانچ باتوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے تھے : ” بخیلی سے ، بزدلی سے ، مجبوری و لاچاری والی عمر سے ، سینے ( دل ) کے فتنے سے اور قبر کے عذاب سے “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الاستعاذة / حدیث: 5448
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9490)، و في عمل الیوم واللیلة 53 (133) (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´بخل اور کنجوسی سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔`
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پانچ باتوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے تھے: " بخیلی سے، بزدلی سے، مجبوری و لاچاری والی عمر سے، سینے (دل) کے فتنے سے اور قبر کے عذاب سے۔‏‏‏‏" [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5448]
اردو حاشہ: ظاہرتو یہی ہے کہ بری عمرسے مراد ذلیل ترین عمر ہی ہے جس کا ذکر سابقہ حدیث میں گزرا ہے‘ مگر بری عمر سے مراد گمراہی والی عمر بھی ہو سکتی ہے‘ خواہ وہ جوانی کی عمر ہو یا بڑھاپے کی۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5448 سے ماخوذ ہے۔