سنن نسائي
كتاب الاستعاذة— کتاب: استعاذہ (بری چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگنے) کے آداب و احکام
بَابُ : مَاجَائَ فِي الْمُعَوِسذَتَيْنِ باب: معوذتین (سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " يَا عُقْبَةُ , قُلْ " ، فَقُلْتُ : مَاذَا أَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ , فَسَكَتَ عَنِّي ، ثُمَّ قَالَ : " يَا عُقْبَةُ , قُلْ " ، قُلْتُ : مَاذَا أَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ , فَسَكَتَ عَنِّي ، فَقُلْتُ : اللَّهُمَّ ارْدُدْهُ عَلَيَّ ، فَقَالَ : " يَا عُقْبَةُ , قُلْ " ، قُلْتُ : مَاذَا أَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ : " قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ " , فَقَرَأْتُهَا حَتَّى أَتَيْتُ عَلَى آخِرِهَا ، ثُمَّ قَالَ : " قُلْ " ، قُلْتُ : مَاذَا أَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ " , فَقَرَأْتُهَا حَتَّى أَتَيْتُ عَلَى آخِرِهَا ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ : " مَا سَأَلَ سَائِلٌ بِمِثْلِهِمَا , وَلَا اسْتَعَاذَ مُسْتَعِيذٌ بِمِثْلِهِمَا " .
´عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا ، تو آپ نے فرمایا : ” عقبہ ! کہو “ ، میں نے عرض کیا : کیا کہوں ؟ اللہ کے رسول ! آپ خاموش رہے ، پھر فرمایا : ” عقبہ ! کہو “ ، میں نے عرض کیا : کیا کہوں ؟ اللہ کے رسول ! آپ خاموش رہے ، میں نے کہا : اللہ کرے آپ اسے پھر دہرائیں ، آپ نے فرمایا : ” عقبہ ! کہو “ ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں کیا کہوں ؟ آپ نے فرمایا : «قل أعوذ برب الفلق» میں نے اسے پڑھا یہاں تک کہ اسے مکمل کیا ، پھر آپ نے فرمایا : ” کہو “ ، میں نے عرض کیا : کیا کہوں اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : ” «قل أعوذ برب الفلق» “ ، پھر میں نے اسے بھی مکمل پڑھا ، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کسی مانگنے والے نے اس جیسی کسی اور چیز کے ذریعہ نہیں مانگا اور نہ کسی پناہ مانگنے والے نے اس جیسی کسی اور چیز کے ذریعہ پناہ مانگی “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا، تو آپ نے فرمایا: ” عقبہ! کہو “، میں نے عرض کیا: کیا کہوں؟ اللہ کے رسول! آپ خاموش رہے، پھر فرمایا: ” عقبہ! کہو “، میں نے عرض کیا: کیا کہوں؟ اللہ کے رسول! آپ خاموش رہے، میں نے کہا: اللہ کرے آپ اسے پھر دہرائیں، آپ نے فرمایا: ” عقبہ! کہو “، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں کیا کہوں؟ آپ نے فرمایا: «قل أعوذ برب الفلق» میں نے اسے پڑھا یہاں۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5440]
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلا، اور آپ سوار تھے تو میں نے آپ کے پاؤں پہ اپنا ہاتھ رکھا، اور آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھے سورۃ هود اور سورۃ یوسف پڑھا دیجئیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ کے نزدیک «قل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس» سے زیادہ بلیغ سورت تم کوئی اور نہیں پڑھو گے۔“ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 954]
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ سوار تھے، میں نے اپنا ہاتھ آپ کے پاؤں پر رکھا، میں نے عرض کیا: مجھے سورۃ ہود پڑھایئے، مجھے سورۃ یوسف پڑھایئے، آپ نے فرمایا: ” تم اللہ کے نزدیک «قل أعوذ برب الفلق» سے زیادہ بہتر کوئی اور سورۃ نہیں پڑھو گے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5441]