سنن نسائي
كتاب المواقيت— کتاب: اوقات نماز کے احکام و مسائل
بَابُ : أَوَّلِ وَقْتِ الصُّبْحِ باب: فجر کے اول وقت کا بیان۔
حدیث نمبر: 544
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَارُونَ ، قال : حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قال : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قال : " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ حِينَ تَبَيَّنَ لَهُ الصُّبْحُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر پڑھی جس وقت صبح ( صادق ) آپ پر واضح ہو گئی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´فجر کے اول وقت کا بیان۔`
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر پڑھی جس وقت صبح (صادق) آپ پر واضح ہو گئی۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 544]
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر پڑھی جس وقت صبح (صادق) آپ پر واضح ہو گئی۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 544]
544۔ اردو حاشیہ: صبح کی نماز کا اول وقت بلااختلاف صبح صادق ہے۔ صبح صادق سے مراد روشنی کی وہ سفید پٹی ہے جو افق کے ساتھ ساتھ پھیلی ہوتی ہے۔ پھیلنے سے پہلے جب چند شعاعیں نیچے سے اوپر کو اٹھتی ہوئی نظر آتی ہیں، وہ صبح کاذب ہے۔ صبح کاذب نماز میں معتبر ہے نہ روزے میں بلکہ صبح صادق ہی اصل صبح ہے۔ روشنی واضح ہونے سے یہی مراد ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 544 سے ماخوذ ہے۔