سنن نسائي
كتاب الاستعاذة— کتاب: استعاذہ (بری چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگنے) کے آداب و احکام
بَابُ : مَاجَائَ فِي الْمُعَوِسذَتَيْنِ باب: معوذتین (سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) کا بیان۔
أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ جَابِرٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : بَيْنَا أَقُودُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَقَبٍ مِنْ تِلْكَ النِّقَابِ , إِذْ قَالَ : " أَلَا تَرْكَبُ يَا عُقْبَةُ ؟ " , فَأَجْلَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَرْكَبْ مَرْكَبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : " أَلَا تَرْكَبُ يَا عُقْبَةُ ؟ " , فَأَشْفَقْتُ أَنْ يَكُونَ مَعْصِيَةً ، فَنَزَلَ وَرَكِبْتُ هُنَيْهَةً , وَنَزَلْتُ وَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : " أَلَا أُعَلِّمُكَ سُورَتَيْنِ مِنْ خَيْرِ سُورَتَيْنِ قَرَأَ بِهِمَا النَّاسُ فَأَقْرَأَنِي قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ , وَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ " ، فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَتَقَدَّمَ فَقَرَأَ بِهِمَا ثُمَّ مَرَّ بِي ، فَقَالَ : " كَيْفَ رَأَيْتَ يَا عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ؟ اقْرَأْ بِهِمَا كُلَّمَا نِمْتَ وَقُمْتَ " .
´عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک مرتبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری ( اونٹنی ) کی نکیل ان گھاٹیوں میں سے ایک گھاٹی میں پکڑے آگے آگے چل رہا تھا تو اس وقت آپ نے فرمایا : ” عقبہ ! کیا تم سوار نہیں ہو گے ؟ “ میں نے آپ کی بزرگی کا خیال کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر ہو جاؤں ، پھر آپ نے فرمایا : ” کیا تم سوار نہیں ہو گے عقبہ ؟ “ تو مجھے ڈر لگا کہ کہیں نافرمانی نہ ہو جائے ، پھر آپ اترے اور میں تھوڑی دیر کے لیے سوار ہوا پھر میں اتر گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور فرمایا : ” لوگ جو سورتیں پڑھتے ہیں ، ان میں سے میں تمہیں دو بہترین سورتیں نہ بتاؤں ؟ “ چنانچہ آپ نے مجھے پڑھ کر سنائی «قل أعوذ برب الفلق» اور « قل أعوذ برب الناس» ، پھر نماز قائم کی گئی ، تو آپ آگے بڑھے اور ان دونوں سورتوں کو پڑھا ، پھر آپ میرے پاس سے گزرے ، اور فرمایا : ” عقبہ ! یہ کیسی لگیں ؟ جب جب سوؤ اور جب جب جاگو انہیں پڑھا کرو “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری (اونٹنی) کی نکیل ان گھاٹیوں میں سے ایک گھاٹی میں پکڑے آگے آگے چل رہا تھا تو اس وقت آپ نے فرمایا: ” عقبہ! کیا تم سوار نہیں ہو گے؟ “ میں نے آپ کی بزرگی کا خیال کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر ہو جاؤں، پھر آپ نے فرمایا: ” کیا تم سوار نہیں ہو گے عقبہ؟ “ تو مجھے ڈر لگا کہ کہیں نافرمانی نہ ہو جائے، پھر آپ اترے اور میں تھوڑی دیر کے لیے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5439]
ہیں اور دونوں اختصار کے باوجود اپنے مضمون میں انتہائی جامع اور کافی و شافی ہیں۔
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹ کی نکیل پکڑ کر چل رہا تھا، آپ نے فرمایا: ” عقبہ! کیا میں تمہیں دو بہترین سورتیں نہ سکھاؤں؟ “، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے «قل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس» سکھائیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ان دونوں (کے سیکھنے) سے بہت زیادہ خوش ہوتے نہ پایا، چنانچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کے لیے (سواری سے) اترے تو لوگوں کو نماز پڑھائی اور یہی دونوں سورتیں پڑھیں، پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ” عقبہ! تم نے انہیں کیا سمجھا ہے ۱؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1462]
➋ اور بعض لوگ اب بھی ایسے ہیں۔ کہ وہ لمبے لمبے پر مشقت وظیفوں کے شائق رہتے ہیں۔ حالانکہ چاہیے کہ سنت صحیحہ سے ثابت شدہ سہل اور خفیف اذکار کو اپنا معمول بنایاجائے۔اس میں محنت کم اور اجر وفضیلت زیاد ہ ہے۔
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کی نکیل پکڑ کر آگے آگے چل رہا تھا، تو آپ نے فرمایا: ” عقبہ! کیا میں تمہیں دو بہترین سورتیں نہ بتاؤں جو مجھے پڑھائی گئی ہیں؟ “ پھر آپ نے مجھے «قل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس» سکھائی، لیکن آپ نے مجھے ان دونوں پر خوش ہوتے نہیں دیکھا، پھر جب آپ فجر کے لیے مسجد آتے تو انہیں دونوں سورتوں سے لوگوں کو فجر پڑھائی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5438]
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ معوذتین کی بہت فضیلت ہے۔ ان کی قرأت کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے رہنا چاہیے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں آ گیا اسے اور کیا چاہیے۔
سیدنا عقبہ بن عامر سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”کیا تم کو وہ آیتیں معلوم نہیں جو آج کی رات نازل ہوئیں اور جن کی مثال اس سے پہلے نہیں دیکھی گئی۔ وہ آیتیں یہ ہیں: ﴿قل أعوذ برب الفلق﴾ اور ﴿قل أعوذ برب الناس﴾“ [صحيح مسلم 814/ 264] معوذتین کی فضیلت میں کئی ایک احادیث مروی ہیں جو الجامح الکامل میں دیکھی جاسکتی ہیں۔
حافظ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا یونس نے بروایت زہری سیدہ عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا سے حدیث کا آخری حصہ اس طرح نقل کیا ہے لیکن امام مالک رحمہ اللہ نے بروایت زہری اس طرح نقل کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار ہوتے تھے تب بھی معوذتین پڑھ کر اپنے اوپر دم کرتے تھے، لیکن جب آپ سخت بیمار ہوئے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے یہ سورتیں پڑھ کر خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر پھونک کر اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم پر پھیر دیا کرتی تھی جس سے میرا مقصد حصول برکت تھا۔ [تفسير المعوذتين]